خیبر (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار نورحلیم آفریدی) وادی تیراہ کے متاثرین کی باعزت واپسی، بحالی، تباہ شدہ مکانات کے سروے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں خیبر ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ خیبر، تیراہ متاثرین، شلوبر قومی کونسل اور باڑہ سیاسی اتحاد کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر خیبر شاہد علی خان، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بھائی نوید آفریدی، تیراہ متاثرین کے چیئرمین رحمت شاہ آفریدی، ترجمان صحبت خان، باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم خان اور شلوبر قومی کونسل کے چیئرمین لعل نبی آفریدی سمیت دیگر عہدیداران موجود تھے۔ اس موقع پر متاثرین اور سیاسی اتحاد کے نمائندوں نے درپیش مسائل اور مطالبات تفصیلی طور پر پیش کیے۔
ڈپٹی کمشنر خیبر شاہد علی خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ متاثرین کی واپسی معاہدے کے طے شدہ نکات کے مطابق جلد از جلد یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہزاروں افراد کا جی آر سی عمل مکمل ہو چکا ہے اور متاثرین سے پیسے وصول کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وادی میں تباہ شدہ گھروں کے سروے کے لیے ویلج کونسل کی سطح پر الگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو واپسی کے بعد باقاعدہ سروے شروع کرے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ وادی تیراہ کے یتیموں، بیواؤں اور کمزور طبقات کی خصوصی رجسٹریشن کی جائے گی۔ زمینوں کے مسائل کے ازالے کے لیے لینڈ کمپنسیشن کا عمل شروع کیا جائے گا اور شہداء کے خاندانوں کو خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ غیرضروری چیک پوسٹوں کے مسائل حل کرنے، مقامی افراد کی پرائیویسی کا خیال رکھنے اور متعلقہ کلیئرنس ملتے ہی ڈی نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور شفافیت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اور این او سی کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ مقامی نوجوانوں کو تعلیم اور دیگر شعبوں میں روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے ضلعی انتظامیہ کے مثبت کردار کو سراہا اور فیصلہ کیا کہ تیراہ متاثرین کے مسائل کے حتمی حل کے لیے دوسرا اعلیٰ سطحی اجلاس جلد طلب کیا جائے گا جس میں اراکینِ پارلیمنٹ اور متعلقہ حکام شرکت کریں گے۔