سرحد یونیورسٹی میں طلبہ احتجاج کے دوران فوجی افسر کی فائرنگ، افسر حراست میں

اسلام آباد(کیو این این ورلڈ)اسلام آباد کی سرحد یونیورسٹی میں فوجی وردی میں ملبوس شخص کی فائرنگ، پاک فوج نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ افسر کو حراست میں لے لیا ہے: حامد میر کا دعویٰ

اسلام آباد کے علاقے راولٹ میں سرحد یونیورسٹی کے کیمپس میں پیر کے روز طلبہ کے احتجاج کے دوران اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب ایک فوجی افسر نے طلبہ کے ساتھ مبینہ ہاتھا پائی کے بعد ہوائی فائرنگ کردی۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد معاملہ زیرِ بحث ہے، جبکہ اسلام آباد پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث فوجی افسر کو حفاظتی تحویل میں لے کر فوج کے اعلیٰ حکام کے حوالے کردیا گیا ہے۔ آج نیوز کے مطابق سینئر صحافی حامد میر نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ پاک فوج نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسر کو حراست میں لے لیا اور اس کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل حمزہ ہمایوں نے بتایا کہ سرحد یونیورسٹی میں طلبہ کے مظاہرے کے دوران ایک فوجی افسر کی جانب سے ایک طالب علم پر تشدد اور بعد ازاں ہوائی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ پولیس افسر کے مطابق مذکورہ افسر کو حفاظتی تحویل میں لے کر فوج کے اعلیٰ حکام کے حوالے کیا گیا ہے، جہاں ان کے خلاف فوجی ضابطے کے تحت کارروائی کا امکان ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب طلبہ یونیورسٹی کے شعبۂ ہیومن ریسورس کی ایک خاتون افسر کے رویے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان کے ساتھ مبینہ نامناسب رویے اور ان کے خلاف کارروائی پر احتجاج کررہے تھے۔ طلبہ کے مطابق وہ اپنے استاد کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے ’’جسٹس فار سر‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔

طلبہ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ یونیورسٹی کی خاتون ملازمہ نے ڈاکٹر جدون خان کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں دھکا دیا جبکہ مبینہ طور پر مقدمے کی دھمکی بھی دی گئی۔ تاہم یہ الزامات طلبہ کا مؤقف ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق اس وقت تک سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب ایک مختلف مؤقف میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتون فیکلٹی ممبر کے ساتھ طلبہ کی جانب سے بدسلوکی ہوئی اور فوجی افسر اپنی اہلیہ کے دفاع کے لیے یونیورسٹی پہنچے تھے۔ اس لیے تنازع کے ابتدائی سبب کے بارے میں دونوں جانب کے دعوے موجود ہیں۔

پولیس کے مطابق جب لیفٹیننٹ کرنل رینک کا فوجی افسر یونیورسٹی پہنچا تو اس کے ہاتھ میں چھڑی تھی اور اس نے مبینہ طور پر کچھ طلبہ کو مارنا شروع کردیا۔ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب طلبہ اور افسر کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی۔ پولیس کے مطابق اسی دوران فوجی افسر نے ہوائی فائرنگ کی اور بعد ازاں وہاں سے چلا گیا۔ واقعے کی سامنے آنے والی ویڈیو میں بھی ایک باوردی شخص کو طلبہ کے ہجوم کے درمیان دیکھا جاسکتا ہے جبکہ بعد میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق واقعے کے وقت پولیس اہلکار بھی موقع پر موجود تھے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ امر بھی باعثِ تشویش تھا کہ پولیس کی موجودگی میں کسی شخص نے مبینہ طور پر قانون اپنے ہاتھ میں لیا۔ فائرنگ کے بعد طلبہ یونیورسٹی سے باہر نکل آئے اور جی ٹی روڈ پر احتجاج شروع کردیا، جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔

بعد ازاں اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر حمزہ ہمایوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے مذاکرات کیے اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ واقعے کے ذمہ دار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ پولیس حکام کے مطابق اگر کوئی شخص فوجی وردی میں فائرنگ یا قانون شکنی کا مرتکب ہوا ہے تو اسے اپنے ادارے کے متعلقہ قوانین کے تحت بھی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

دوسری جانب پاک فوج کی جانب سے واقعے کا نوٹس لیے جانے اور متعلقہ افسر کو تحویل میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق فوجی حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات اور انضباطی کارروائی شروع کردی گئی ہے، تاہم حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔ ایک رپورٹ میں افسر کا رینک لیفٹیننٹ کرنل بتایا گیا ہے، جبکہ بعض سوشل میڈیا اطلاعات میں مختلف رینک کا ذکر بھی سامنے آیا؛ اس لیے حتمی خبر میں لیفٹیننٹ کرنل کا حوالہ بھی پولیس کے مؤقف کے طور پر دینا زیادہ محتاط ہوگا۔

سرحد یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بھی واقعے کے خلاف متعلقہ تھانے میں درخواست دینے کی تصدیق کی ہے۔ واقعے کے بعد طلبہ نے مطالبہ کیا کہ ان کے احتجاج کے پس منظر، یونیورسٹی کے اندر جاری تنازع اور فائرنگ کے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔

یوں اس واقعے میں دو الگ پہلو سامنے آتے ہیں: ایک جانب یونیورسٹی کے اندر استاد اور انتظامیہ سے متعلق جاری تنازع اور اس پر طلبہ کا احتجاج، جبکہ دوسری جانب احتجاج کے دوران ایک فوجی افسر کی مبینہ مداخلت، طلبہ سے ہاتھا پائی اور ہوائی فائرنگ۔ فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر فائرنگ اور افسر کو تحویل میں لیے جانے کی بات واضح طور پر سامنے آتی ہے، تاہم تنازع شروع ہونے کی اصل وجہ، فریقین کے درمیان ہاتھا پائی کا ذمہ دار کون تھا اور واقعے میں قانون کی خلاف ورزی کس حد تک ہوئی، ان سوالات کا حتمی جواب تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے