ڈی جی خان میں بھٹہ مالکان کی من مانیاں عروج پر، اینٹوں کے نرخ 18 ہزار 500 تک جا پہنچے

ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ): ڈیرہ غازی خان میں ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی مبینہ چشم پوشی و عدم توجہی کے باعث اینٹوں کے بھٹہ مالکان نے قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے، جہاں مختلف درجوں کے سرکاری نرخ ختم کر کے مکس اینٹ 17 ہزار 500 سے 18 ہزار 500 روپے فی ہزار تک فروخت کی جا رہی ہے۔ ملک کے دیگر اضلاع کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر بلند ان نرخوں کے باعث عام شہریوں کا گھر بنانا ناممکن ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کا تاریخی ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ منصوبہ بھی تعمیراتی مافیا کی ناجائز منافع خوری کے باعث شدید خدشات کا شکار ہو چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں اینٹوں کے بھٹہ مالکان کی جانب سے قیمتوں میں من مانا اور ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول حکام کی مبینہ چشم پوشی اور عدم توجہی کے باعث عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ اینٹوں کے مختلف بھٹوں پر جا کر معلوم کیے گئے نرخوں کے مطابق مکس اینٹ کی قیمت 17 ہزار 500 سے 18 ہزار 500 روپے فی ہزار تک پہنچ چکی ہے، جس سے عام شہریوں کے لیے گھر کی تعمیر ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔

بھٹہ مالکان کی جانب سے اول، دوم اور سوم درجے کی اینٹ کے الگ الگ سرکاری نرخ بتانے کے بجائے شہریوں کو زبردستی مکس اینٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ ملک کے دیگر اضلاع میں اول درجے کی اینٹ 12 ہزار 500 سے 15 ہزار، دوم 10 ہزار سے 11 ہزار 500 جبکہ سوم درجے کی اینٹ 8 ہزار سے 9 ہزار 500 روپے فی ہزار میں دستیاب ہے، لیکن ڈیرہ غازی خان میں انتظامی نگرانی نہ ہونے کے برابر ہونے سے اینٹوں کے نرخوں میں بے تحاشا فرق سامنے آ رہا ہے۔

اس صورتحال کے باعث وزیراعلیٰ پنجاب کا تاریخی اقدام ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ منصوبہ بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مستحق افراد کو دیے جانے والے 15 لاکھ روپے کے مالی امدادی قرضے سے اینٹوں، سیمنٹ اور سریے کی ان بڑھتی ہوئی قیمتوں میں گھر تعمیر کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر تعمیراتی سامان مافیا کے رحم و کرم پر رہا تو حکومت کا یہ فلاحی منصوبہ اپنے حقیقی مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔

عوامی اور شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور محکمہ انڈسٹریز کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسران صرف دفاتر تک محدود ہیں اور فرضی رپورٹوں کے ذریعے کاغذی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ شہریوں کے مطابق فیلڈ میں مؤثر نگرانی نہ ہونے اور معائنے نہ کیے جانے کی وجہ سے بھٹہ مالکان بلا خوف و خطر ناجائز منافع خوری میں مصروف ہیں۔

اس کے علاوہ ذرائع کی جانب سے محکمہ ایکسائز کے بعض اہلکاروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا، جن کا مؤقف سامنے آنے پر خبر میں شامل کیا جائے گا۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے اور ڈیرہ غازی خان کی ضلعی انتظامیہ کو اینٹوں کے بھٹوں کا اچانک معائنہ کر کے منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے