چلاس (کیو این این ورلڈ) گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقے تھور میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں رہائشی مکانات، زرعی زمینیں، مال مویشی اور قیمتی سامان متاثر ہوا، جبکہ متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق تھور میک میں واقع مقامی مسجد بھی سیلابی ریلے کی زد میں آ گئی، جبکہ تھور اینگر میں خشک پہاڑی سے اچانک آنے والے شدید سیلابی ریلے نے ایک رہائشی مکان، قیمتی گھریلو سامان، مال مویشی اور ایک گاڑی کو بہا دیا۔
اطلاعات کے مطابق گولڈ پلیسر کے ذریعے حاصل کیا گیا تقریباً 200 گرام سونا اور نقد رقم بھی سیلاب کی نذر ہو گئی، جس سے متاثرہ خاندان کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
تھور شیتن، تھور میک اور دیگر علاقوں میں سیلابی ریلے کھیتوں میں داخل ہو گئے، جس کے باعث کھڑی فصلیں اور زرعی اراضی شدید متاثر ہوئی، جبکہ سیلابی ملبہ گھروں میں داخل ہونے سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث تھور کو ملانے والی رابطہ سڑک منقطع ہو گئی ہے، جس سے مقامی آبادی اور امدادی سرگرمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، تاہم شہریوں نے متعلقہ اداروں سے فوری امداد، سڑکوں کی بحالی اور نقصانات کے ازالے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔