دادو میں اربوں کی واٹر سپلائی اسکیموں کے دعوے، شہری پینے کے پانی سے محروم

دادو(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار منظور علی جوئیہ کی رپورٹ) چار لاکھ سے زائد آبادی والے شہر دادو میں پینے کے صاف پانی کا بحران سنگین صورت اختیار کرنے لگا، شہری پانی کے حصول کے لیے دربدر ہونے پر مجبور ہیں۔ شہریوں کے مطابق پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پانی کی فراہمی کے لیے کروڑوں اور اربوں روپے کی اسکیمیں مکمل ہونے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم عملی طور پر شہر کے مکین آج بھی پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ واٹر سپلائی اسکیموں پر خطیر رقم خرچ ہونے کے باوجود گھروں تک پانی کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جا سکی۔ پانی کی عدم دستیابی نے روزمرہ زندگی کو متاثر کر رکھا ہے اور شہریوں کو اپنی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی خاندان دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں، جبکہ بعض شہری پینے کا پانی خرید کر اپنی ضرورت پوری کر رہے ہیں، جس سے غریب اور متوسط طبقے پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر دادو کے دفتر میں شہریوں کے لیے نصب واٹر پلانٹ بھی کئی روز سے بند ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے باعث سرکاری دفتر آنے والے شہری اور دیگر افراد بھی صاف پانی کی سہولت سے محروم ہیں۔ شہریوں کے مطابق ایسے مقامات پر پینے کے پانی کی دستیابی مزید ضروری ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ سرکاری امور کے سلسلے میں آتے ہیں۔

شہری حلقوں نے صورت حال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شہر میں پانی کی فراہمی کے لیے کروڑوں اور اربوں روپے کی اسکیمیں موجود ہیں تو پھر شہریوں کو پینے کا صاف پانی کیوں دستیاب نہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ منصوبوں کی تکمیل کے دعووں اور زمینی صورت حال میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے، جس پر متعلقہ حکام کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دادو میں جاری اور مکمل شدہ واٹر سپلائی اسکیموں کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے، ان منصوبوں پر خرچ ہونے والے فنڈز کی جانچ پڑتال کی جائے اور بند واٹر پلانٹس کو فوری طور پر فعال بنایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے شہر کے تمام متاثرہ علاقوں میں صاف پینے کے پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔

شہریوں کے مطابق صاف پانی ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی عدم دستیابی کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسکیموں کی عملی کارکردگی کا جائزہ لیں اور دادو کے مکینوں کو درپیش پانی کے بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کریں۔

وضاحت: اگر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ یا ضلعی انتظامیہ دادو اس خبر کے حوالے سے اپنا مؤقف یا وضاحت دینا چاہیں تو کیو این این ورلڈ اسے پوری ذمہ داری کے ساتھ شائع کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے