پشاور میں نجی سکول کی چھت گر گئی، 35 افراد جاں بحق، عمارت خستہ حال ہونے کا انکشاف

پشاور (کیو این این ورلڈ)خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں کالج روڈ پر تین منزلہ نجی سکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق جبکہ 51 بچے زخمی ہوگئے۔ افسوسناک حادثے کے بعد ریسکیو 1122، پاک فوج اور دیگر امدادی اداروں نے کارروائیوں میں حصہ لیا۔ حکام کے مطابق ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا ہے اور ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق سکول کی چھت گرنے کا واقعہ دیر کالونی میں کالج روڈ پر پیش آیا۔ اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے بچوں اور سکول کے عملے کو نکالنے کا عمل شروع کردیا۔ سکول تنگ گلیوں میں واقع ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کی انتظامیہ کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں اور خاتون ٹیچر کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق 33 لاشیں لیڈی ریڈنگ اسپتال جبکہ دو لاشیں نصیراللہ خان بابر میموریل اسپتال منتقل کی گئیں۔ زخمی بچوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔

اسپتال ترجمان محمد عاصم کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں مختلف اطلاعات کے مطابق 6 سے 14 سال کے درمیان تھیں، جبکہ جاں بحق ہونے والوں میں چھ بچیاں بھی شامل ہیں۔ حادثے کے بعد لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی اور انتظامیہ زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے موجود رہی۔

پولیس حکام کے مطابق تین منزلہ نجی سکول میں تقریباً 110 بچے زیر تعلیم تھے۔ ابتدائی رپورٹ میں عمارت کی چھتوں کو خستہ حال قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلے ایک کمرے کی چھت گری، جس کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران رش بڑھنے پر عمارت کا باقی حصہ بھی منہدم ہوگیا۔ بعض بچوں کو سکول میں رہائش کی سہولت فراہم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

حادثے کے بعد پولیس نے سکول کے مالک اور پرنسپل کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات اور مقدمے کے اندراج کی کارروائی جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے اور کمیٹی سے ایک روز میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سکول کی عمارت کا تکنیکی معائنہ نہیں کیا گیا تھا۔ نجی سکول مارچ 2026 میں پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہوا تھا، تاہم عمارت کی خستہ حالی کے باوجود رجسٹریشن دیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔

خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے ایم ڈی جاوید اقبال کے مطابق اتھارٹی کے پاس عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کرنے والی ٹیم موجود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سکولوں کی رجسٹریشن کلاس رومز اور دیگر انتظامی معیار پورا ہونے پر کی جاتی ہے، جبکہ خستہ عمارتوں پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار تو موجود ہے لیکن سکول بند کرنے کا اختیار نہیں۔

دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے میں بچوں اور خاتون ٹیچر کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی، جبکہ صدر مملکت نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی اور زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے بھی سانحے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو زخمی بچوں کی بہترین طبی دیکھ بھال یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ریسکیو اہلکاروں کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے پر زور دیا۔

پشاور کے اس المناک حادثے نے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت، تکنیکی معائنے اور رجسٹریشن کے طریقہ کار پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حادثے کی حتمی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین انکوائری رپورٹ اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے