چین: ابھرتی عالمی طاقت

چین دنیا کا مستقبل
تحریر: ڈاکٹر سید محبوب، سینیئر ریسرچ ایڈیٹر، نیوز لا کراچی

عالمی سطح پر چین نے جس تیزی اور سرعت سے ترقی کی ہے، اس کی مثال جدید انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ انتھک محنت، مسلسل جدوجہد، عملِ پیہم، بے مثال حب الوطنی، مخلص، دیانت دار اور فرض شناس قیادت، یہ وہ مؤثر ہتھیار ہیں جن کی بدولت چین نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور صرف 40 سالوں میں 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر دنیا کو حیرت زدہ کر دیا۔ مغرب نے یہ کامیابی 400 سال میں حاصل کی، لیکن ان کی معاونت سامراجی ہتھکنڈوں نے خوب کی۔ انہوں نے دیگر ممالک پر قبضہ کیا، ان کے وسائل لوٹے، ان پر اپنی تہذیب تھوپی، کروڑوں لوگوں کا لہو بہایا، اختلافات پیدا کیے، آپس میں لڑوایا اور دیگر اقوام کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور ان کی کمزوریوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اس کے برعکس چین نے یہ مقام اپنی محنت، لگن، اتحاد و اتفاق، دیگر اقوام سے اشتراک، کاروبار کے فروغ اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے ذریعے حاصل کیا۔

چین بحیثیت تہذیب گزشتہ دو ہزار سالوں سے عالمی سطح پر مختلف ادوار میں نمایاں رہا ہے۔ قدیم شاہراہِ ریشم وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا، بالخصوص ان علاقوں سے جو پاکستان میں شامل ہیں، تجارت کے ذریعے منسلک رہا۔ اس کے تجارتی روابط مشرق وسطیٰ اور یورپ سے بھی رہے۔

جدید دور میں چین کا بیلٹ اینڈ روڈ اقدام، جس کا آغاز 2013 میں ہوا تھا اور جسے اب 13 سال ہو چکے ہیں، اس جدت آمیز اقدام کے ذریعے وہ دنیا کے 150 ممالک اور 32 بین الاقوامی اداروں کے ساتھ منسلک ہو چکا ہے۔ چین نے بی آر آئی کے ذریعے ایک ہزار ارب ڈالر کی ضخیم سرمایہ کاری کی ہے، جس کے ذریعے پانچ لاکھ لوگوں کو براہِ راست روزگار کی سہولت میسر ہوئی ہے اور تقریباً چار کروڑ لوگوں کو غربت کی پستیوں سے نکالنے میں چین نے مدد دی۔

اقوام متحدہ کے 193 ممالک ہیں، جن میں سے 130 ممالک کے ساتھ چین کی تجارت امریکہ سے زیادہ ہے۔ بی آر آئی کے علاوہ چین کی عظیم وژنری اور با تدبیر قیادت، صدر شی جن پنگ نے عالمی ترقیاتی اقدام (جی ڈی آئی)، عالمی سلامتی اقدام (جی ایس آئی)، عالمی تہذیبی اقدام (جی سی آئی) اور عالمی منصفانہ نظامِ حکومت (جی جی آئی) جیسے بین الاقوامی قابلِ قدر منصوبے دنیا کے سامنے پیش کیے۔ ان اقدامات کے ذریعے چین دنیا میں عالمی نظام، انصاف، مساوات، باہمی احترام، امن اور عالمی تجارت کی راہ ہموار کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

چین دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور جدت طرازی میں عالمی قیادت کر رہا ہے۔ 5 جی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں چین کی نمایاں پیش رفت امریکہ کو اس دوڑ میں تھکا دینے والے اقدامات کر رہی ہے۔ اس امر کا اعتراف ہاورڈ یونیورسٹی نے اپنی رپورٹ میں بھی کیا ہے۔ مغرب اور امریکہ کا زیادہ تر انحصار جنگوں اور بین الاقوامی اختلافات سے فائدہ اٹھانے پر رہا ہے۔ امریکہ ویتنام، افغانستان، عراق اور اب ایران کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے۔ امریکہ کے صرف ایشیا میں 400 جبکہ دنیا کے 80 ممالک میں 750 فوجی اڈے ہیں یا رہے ہیں۔

عالمی جنوب امریکہ کے دوہرے معیار سے تنگ آ چکا ہے۔ امریکہ نے جس طرح فلسطینی عوام کی نسل کشی میں اسرائیل کا ساتھ دیا ہے اور جس طرح اسرائیل کی خاطر اس نے اقوام متحدہ، بین الاقوامی عدالتِ انصاف، بین الاقوامی فوجداری عدالت، او آئی سی جیسے عالمی اداروں کے تمام اصول و ضوابط اور قراردادوں کو اپنے پیروں تلے روندا ہے، اس سے عالمی امن شدید خطرے سے دوچار ہو چکا ہے۔ پاکستان ایک عالمی مدبر اور امن و سلامتی کے پیامبر کے طور پر سامنے آیا ہے اور بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ عالمی امن کی راہ ہموار ہو اور ایران اور امریکہ میں ایک قابلِ عمل معاہدہ ہو جائے، تاکہ دنیا ایک بہت بڑی تباہی سے بچ جائے۔

چین دنیا میں مکالمے، عالمی تجارت، تہذیبوں کے درمیان تعاون اور باہمی احترام کا قائل ہے۔ چین کثیر القطبی دنیا کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے، جہاں عالمی پالیسیوں اور فیصلہ سازی میں صرف ایک ہی طاقت کی اجارہ داری نہ ہو بلکہ عالمی اداروں، بشمول اقوام متحدہ، کے چارٹر، اصولوں اور قوانین کا احترام ہو۔

عالمی سطح پر طاقت کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں، جن میں چین اور روس کا کردار نمایاں ہے۔ اقبال نے اس منظرنامے کی پیش گوئی کچھ اس طرح کی تھی:

کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

مشرق سے چین کا سورج ابھر رہا ہے۔ چین دنیا کا مستقبل ہے اور پاکستان کی خوش نصیبی ہے کہ پاکستان چین کا بہترین دوست ہے۔ اس دوستی کو اب پاکستان اپنے آپ کو معاشی طاقت میں بدلنے کے لیے نمایاں کوشش کرے، اس بات کی ضرورت ہر ایک محسوس کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے