کوئٹہ سے پشاور جانے والی بس کو دانہ سر میں المناک حادثہ، خواتین اور بچے بھی جاں بحق

کوئٹہ (کیو این این ورلڈ) بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی سرحدی شاہراہ پر واقع دانہ سر کے مقام پر کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں جا گرنے سے کم از کم 40 افراد جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ حادثہ ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیانی علاقے میں پیش آیا، جس کے بعد دونوں صوبوں کے ریسکیو اداروں نے مشترکہ امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122، فرنٹیئر کور (ایف سی)، پولیس، پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، تاہم امدادی اہلکار زخمیوں کو نکال کر قریبی اسپتالوں میں منتقل کرتے رہے جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں بھی کھائی سے نکالنے کا عمل جاری رہا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا امور شاہد رند نے حادثے میں 40 افراد کے جاں بحق اور 8 کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے کا شکار بس میں اپنے مسافروں کے علاوہ ایک خراب ہونے والی دوسری بس کے بعض مسافر بھی سوار تھے، جس کے باعث بس میں معمول سے زیادہ افراد موجود تھے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی ممکنہ وجہ بس کے بریک فیل ہونا بتائی جا رہی ہے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ امدادی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشوار گزار علاقے کے باوجود ریسکیو ٹیمیں پوری تندہی سے آپریشن میں مصروف ہیں۔

حادثے کے بعد شیرانی، ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت قریبی سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ژوب۔شیرانی شاہراہ پر پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو زخمیوں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے اور زخمیوں کو بہترین علاج کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے حادثے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔

حکام کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، جبکہ جاں بحق افراد کی شناخت اور زخمیوں کے علاج کا عمل جاری ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے