ایل پی جی مافیا بے لگام، کارروائی کے خوف سے پلانٹس بند ہونے کا خدشہ

لاہور (کیو این این ورلڈ) ملک میں ایل پی جی کی قیمتوں میں من مانے اضافے نے شہریوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا، گزشتہ پانچ سے چھ روز سے مہنگے داموں گیس فروخت کیے جانے کی شکایات کے باوجود مؤثر کارروائی سامنے نہ آنے پر حکومتی رٹ اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے۔ دوسری جانب اوگرا کے ایک اعلیٰ افسر نے انکشاف کیا ہے کہ ایل پی جی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی صورت میں ہڑتال اور پلانٹس بند ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث حکام بحران مزید سنگین ہونے کے اندیشے سے فوری اقدام کرنے سے گریزاں ہیں۔ افسر کے مطابق حالات بگڑنے کی صورت میں ایل پی جی کی قیمت 700 روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ پانچ سے چھ روز سے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے اور من مانے نرخوں پر فروخت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم اوگرا سمیت متعلقہ اداروں کی جانب سے مہنگے داموں گیس فروخت کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر صارفین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ صورت حال یہ سوال پیدا کر رہی ہے کہ اگر مارکیٹ میں قیمتوں کو قابو میں رکھنا اور صارفین کو ناجائز منافع خوری سے تحفظ دینا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے تو پھر شہریوں کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا؟

ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق اوگرا کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ تین سے چار روز کے دوران اس معاملے پر اعلیٰ سطح کے اجلاس ہوئے، جن میں مختلف اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاسوں میں بتایا گیا کہ تفتان بارڈر بند ہونے کے باعث ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہوئی، جس سے قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا۔

افسر کے مطابق پاکستان کی ایل پی جی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد درآمدات سے پورا ہوتا ہے، جبکہ 30 فیصد ملکی پیداوار سے حاصل کیا جاتا ہے۔ درآمدی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال نے مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا، تاہم اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ سپلائی میں مشکلات کی آڑ میں صارفین سے من مانے نرخ وصول کرنے والوں کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟

اوگرا کے اعلیٰ افسر نے دعویٰ کیا کہ اگر موجودہ صورت حال میں ایل پی جی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی گئی تو وہ ہڑتال کرنے کے علاوہ اپنے پلانٹس بھی بند کر سکتی ہیں۔ ان کے بقول دکاندار بھی اس ہڑتال میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے ملک بھر میں ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہونے اور توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ ہے۔

افسر کے مطابق اسی خدشے کے پیش نظر فوری کارروائی سے گریز کیا گیا، حالانکہ ایل پی جی کمپنیوں کے پلانٹس کے خلاف کارروائی کے لیے فہرست تیار کر لی گئی تھی۔ صوبائی حکومتوں کی ضلعی انتظامیہ کو بھی بڑے پیمانے پر ایل پی جی ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تمام صورت حال سے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے۔

یہ صورت حال متعلقہ اداروں کے لیے ایک بڑا سوال کھڑا کرتی ہے کہ اگر کارروائی نہ ہونے کی وجہ کمپنیوں کی ممکنہ ہڑتال اور پلانٹس کی بندش کا خدشہ ہے تو ناجائز منافع خوری کے تدارک اور صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومتی حکمت عملی کیا ہے؟ اگر چند کمپنیوں یا کاروباری حلقوں کی جانب سے سپلائی روکنے کے خدشے کے باعث کارروائی مؤخر کی جاتی ہے تو اس کا براہ راست بوجھ عام شہریوں کو مہنگی گیس کی صورت میں برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر صورت حال کا کنٹرول سنبھالے، بصورت دیگر حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

اوگرا کے ترجمان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ معاملے پر کام جاری ہے اور تفتان بارڈر بند ہونے سے کچھ مشکلات پیدا ہوئی ہیں، تاہم ان پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے اور کارروائی میں تاخیر نے عوامی مفاد کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی ذمہ داری کو اہم بنا دیا ہے۔ شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے ضروری ہے کہ سپلائی کی صورت حال واضح کی جائے، مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے کی شکایات کا جائزہ لیا جائے اور ذخیرہ اندوزی یا غیر قانونی منافع خوری ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے