970 ارب ڈالر قرض کے سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوتے ہیں جو امریکی دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ ہیں

واشنگٹن(کیو این این ورلڈ) امریکا کا قومی قرض صرف دو ماہ کے دوران تقریباً 400 ارب ڈالر بڑھ کر 40.4 ٹریلین ڈالر کے قریب پہنچ گیا ہے، جس سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو درپیش مالیاتی دباؤ اور حکومتی اخراجات کے استحکام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

امریکی خزانہ محکمہ (یو ایس ٹریژری) کے روزانہ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، قومی قرض 20 اکتوبر 2026 تک تقریباً 40.44 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس سے پہلے 19 اگست 2026 کو یہ پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح عبور کر گیا تھا، اور اس کے بعد چند ہفتوں میں مزید تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

امریکی ماہرین اور کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کی پیش گوئیوں کے مطابق آئندہ ایک دہائی میں ملک کا قومی قرض (عوام کے پاس موجود حصہ) مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 120 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ اس صورت میں وفاقی حکومت کا قرض امریکا کی ایک سال کے دوران پیدا ہونے والی تمام اشیا اور خدمات کی مالیت سے بھی بڑھ جائے گا۔قرض کا بڑھتا ہوا حجم امریکی حکومت کے بجٹ پر بھاری پڑ رہا ہے۔

مالی سال 2025 میں امریکا نے تقریباً 970 ارب ڈالر صرف قومی قرض پر سود کی ادائیگیوں کے لیے خرچ کیے، جو دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ تھے۔ مالی سال 2026 میں یہ رقم مزید بڑھ کر 1.05 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ 2020 کے بعد سے قرض پر سود کی ادائیگیوں کے اخراجات تقریباً تین گنا ہو چکے ہیں، جس سے حکومتی وسائل پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔

پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس اور دیگر ماہر اداروں کے مطابق اگر حکومتی اخراجات یا ٹیکسوں کے نظام میں بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو امریکی قومی قرض آئندہ چند برسوں میں 50 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔معاشی ماہرین کے لیے اصل تشویش صرف قرض کی ریکارڈ سطح نہیں بلکہ اس کی رفتار سے بڑھتی ہوئی سود کی ادائیگیاں بھی ہیں۔

قرض پر زیادہ رقم خرچ ہونے سے دفاع، صحت، سماجی بہبود اور دیگر اہم شعبوں کے لیے دستیاب مالی گنجائش محدود ہو سکتی ہے، جبکہ بلند شرح سود کی صورت میں نئے قرض کا حصول مزید مہنگا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو امریکی معیشت پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے