لنڈی کوتل: ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل رجسٹرڈ میں سینئر صحافیوں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صحافیوں کو درپیش مسائل، عوامی خدمات اور لنڈی کوتل صحافیوں کی جانب سے عوامی آواز کو اجاگر کرنے سے متعلق اہم امور پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اجلاس میں سینئر صحافی اور ٹی یو جے سابق فاٹا کے سابق چیئرمین قاضی فضل اللہ، ٹی یو جے فاٹا کے نائب صدر ابوذر آفریدی، نورست آفریدی، شاہد شینواری، امین الحق آفریدی، نصیب شاہ شینواری، عطاء اللہ آفریدی، کامران شینواری اور سراج آفریدی سمیت دیگر صحافیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر قاضی فضل اللہ نے کہا کہ لنڈی کوتل کے صحافیوں نے مشکل اور کٹھن حالات میں بھی عوامی آواز کو اربابِ اختیار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی صحافیوں نے عوامی خدمت کے بدلے قربانیاں دی ہیں اور کئی صحافیوں نے اپنے خون کے نذرانے بھی پیش کیے ہیں۔ صحافیوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل رجسٹرڈ، تورخم روڈ دلاور خان بلڈنگ میں سن 2004 سے فعال ہے، تاہم اب بعض مخالف عناصر نے ایک نجی عمارت میں پریس کلب کے نام پر ہال کرائے پر لے رکھا ہے اور وہ مسلسل رجسٹرڈ پریس کلب اور صحافیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اجلاس کے شرکاء نے عوامی و سیاسی مشران سے مطالبہ کیا کہ وہ آگے بڑھ کر اس مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کریں تاکہ حقائق واضح ہوں اور صحافی برادری میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مخالفین کی چھان بین کی گئی تو ان میں ایک بھی حقیقی صحافی باقی نہیں رہے گا۔

ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ/محمدعامرقادری) بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات کے بعد واسا کے ایم ڈی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ اضافی چارج ڈپٹی ایم ڈی رمیز کو سونپ دیا گیا ہے۔ فیصلے کے بعد شہر بھر میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اقدام کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کرنے والی پوسٹیں اور خبریں سامنے آنے لگیں۔

ذرائع کے مطابق واسا کے قیام کو ایک سال ہی گزرا تھا کہ شہر میں سیوریج اور ترقیاتی منصوبوں میں فنڈز کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق سنگین الزامات گردش کرنے لگے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سیوریج منصوبہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود عملی طور پر شروع نہیں ہو سکا جبکہ متعدد میگا پراجیکٹس بھی سست روی کا شکار رہے۔

مبینہ طور پر 17 ارب روپے کے سیوریج، واٹر سپلائی اور سڑکوں کی ری کنسٹرکشن کے منصوبوں میں من پسند ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے، کمیشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ شہری حلقوں کا دعویٰ ہے کہ بعض منصوبوں میں ایڈوانس ادائیگیوں اور قواعد کے برعکس فیصلوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔

شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ بدعنوانی کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں، اینٹی کرپشن میں زیر التوا انکوائریاں کھولی جائیں اور ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ تمام منصوبوں کا آڈٹ کرکے ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔

شہری حلقوں نے مزید مطالبہ کیا کہ واسا کے منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، فنڈز کے درست استعمال کو یقینی بنایا جائے اور عوامی مفاد کے منصوبوں کو شفاف انداز میں مکمل کیا جائے۔

دوسری جانب انتظامی تبدیلی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ واسا کے ترقیاتی منصوبوں میں بہتری آئے گی، تاہم شہریوں کے مطابق اصل صورتحال آئندہ دنوں میں واضح ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے