رینالہ خورد (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار) میونسپل کمیٹی کی جانب سے سیل کی گئی سرکاری دکانوں کو غیر قانونی طور پر ڈی سیل کرنے اور زبردستی کاروبار شروع کرنے پر تین دکانداروں کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ یہ کارروائی انفورسمنٹ آفیسر کاشف شریف کی مدعیت میں عمل میں لائی گئی ہے، جنہوں نے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف متعلقہ تھانے میں تحریری درخواستیں جمع کروائیں، جس کے بعد پولیس نے باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چند ماہ قبل میونسپل کمیٹی اور ریونیو حکام رینالہ خورد نے سرکاری دکانوں کے طویل عرصے سے واجب الادا کرایہ جات جمع نہ کروانے پر ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا تھا، جس کے دوران درجنوں دکانوں کو سرکاری طور پر سیل کر دیا گیا تھا۔ حکام کا موقف تھا کہ بار بار نوٹسز بھیجنے کے باوجود دکانداروں نے بقایا جات ادا نہیں کیے تھے، جس کے باعث یہ سخت انتظامی قدم اٹھانا پڑا اور دکانوں کو تالے لگا کر سرکاری مہریں ثبت کر دی گئی تھیں۔

حالیہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب انفورسمنٹ آفیسر کاشف شریف نے ٹیم کے ہمراہ معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ تین دکانداروں محمد یوسف، علی محمد اور محمد شہباز نے سرکاری سیلیں غیر قانونی طور پر توڑ کر دکانیں کھول لی ہیں اور وہاں اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر رکھا ہے۔ اس سنگین خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیتے ہوئے مذکورہ افراد کے خلاف مقدمات درج کروائے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری مہر توڑنا ایک سنگین جرم ہے اور اس میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ رینالہ خورد میں سرکاری املاک پر قابض یا کرایہ جات کی ادائیگی میں غفلت برتنے والے دکانداروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انفورسمنٹ آفیسر کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے اور سرکاری احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ شہریوں اور تاجر برادری کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے واجب الادا کرایہ جات فوری طور پر سرکاری خزانے میں جمع کروائیں تاکہ قانونی پیچیدگیوں اور دکانوں کے سیل ہونے جیسے اقدامات سے بچا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے