ڈیرہ غازی خان(کیو این این ورلڈ) ضلع بھر میں سفارشی بنیادوں پر تعینات ایس ایچ اوز جرائم پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں، جس کے باعث ڈی پی او ڈیرہ غازی خان کو شدید انتظامی ناکامی کا سامنا ہے اور شہری شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں ڈکیتیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے، جہاں مزاحمت پر شہریوں کو گولیاں مار کر زخمی کیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس محض کارروائیوں کے دعووں تک محدود نظر آتی ہے۔
تازہ واقعہ دن دہاڑے تھانہ گدائی کی حدود میں چوکی لوہار والا کے پچھلے روڈ پر پیش آیا، جہاں مسلح ڈاکوؤں نے ایک شہری سے موٹر سائیکل چھین لی۔ واقعہ پولیس چوکی سے محض 100 میٹر کے فاصلے پر پیش آیا، تاہم 15 پر کال کرنے کے باوجود پولیس موقع پر نہ پہنچ سکی، جس پر شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
اسی طرح تھانہ چوٹی کی حدود سمندری کے قریب تین مسلح ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے بلال احمد اور عبدالرزاق کھوسہ سے ہنڈا 125 موٹر سائیکل چھین لی۔ مزاحمت کے دوران دونوں شہری شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
صدر سرکل کے حساس علاقے تھانہ دراہمہ میں صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے، جہاں علاقہ مکینوں کے مطابق عملاً ڈاکو راج قائم ہے۔ گزشتہ رات ٹھہڑی کے قریب میرو مائنر پر دوست کی شادی سے واپس آنے والے تقریباً ایک درجن افراد کو پانچ مسلح ڈاکوؤں نے گھیر لیا۔ زنگلانی ہاؤس کے قریب ڈاکو اسلحہ کے زور پر تین عدد ہنڈا 125 موٹر سائیکلیں (ماڈل 2026)، نقدی اور درجنوں قیمتی موبائل فون لوٹ کر فرار ہو گئے، حتیٰ کہ متاثرین کی جیکٹس تک اتار لی گئیں۔
شہریوں کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پانچ سے زائد موٹر سائیکلیں اور درجنوں موبائل فون چھینے جا چکے ہیں، جبکہ اوورسیز پاکستانی خاص طور پر ڈاکوؤں کے نشانے پر ہیں۔ بعض واقعات میں مزاحمت پر نوجوانوں کو گولیاں مار کر زخمی کیا گیا، جبکہ ایک واقعے میں شہری جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا، مگر پولیس تاحال کسی بڑے ملزم کو گرفتار نہ کر سکی اور نہ ہی لوٹا گیا سامان برآمد ہو سکا۔
گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران رات 9 بجے سے شروع ہونے والی وارداتیں دن دیہاڑے تک جاری رہیں۔ قصبہ سمینہ کے مغربی علاقے پکی ہٹی میں مسلح ڈاکوؤں نے شہری محمد آمین بورانہ سے موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی، مزاحمت پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی کو فوری طور پر ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔
اگرچہ واقعات کے بعد ڈی ایس پی صدر سرکل اور سی سی ڈی انچارج زاہد خان لغاری موقع پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کیے، تاہم تاحال کسی مؤثر کارروائی یا گرفتاری کی اطلاع سامنے نہیں آ سکی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ ایس ایچ اوز کی ناقص حکمت عملی اور کمزور گشت کے باعث جرائم پیشہ عناصر بے خوف ہو چکے ہیں اور ضلع کے متعدد علاقے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہیں۔
شہریوں اور متاثرین نے آئی جی پنجاب، آر پی او ڈیرہ غازی خان اور ڈی پی او سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سفارشی ایس ایچ اوز کو ہٹایا جائے، تھانوں کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کیا جائے اور مؤثر پولیسنگ یقینی بنائی جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔