امریکی فورسز نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرتے ہوئے صدر نیکولس مڈورو کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا ہے، جہاں ان پر منشیات کی سمگلنگ اور نارکو ٹیررازم کے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ بین الاقوامی سطح پر متنازعہ قرار دیے جانے والے اس آپریشن نے ماضی میں پاناما کے جنرل نوریگا اور عراق کے صدر صدام حسین کی امریکی گرفتاریوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔
وینزویلا کے صدر نیکولس مڈورو کی امریکی فورسز کے ہاتھوں حالیہ گرفتاری نے عالمی سیاست میں ایک نیا ارتعاش پیدا کر دیا ہے، مڈورو کو 3 جنوری 2026 کو کراکاس میں ایک بڑے پیمانے کے فوجی آپریشن کے دوران ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا گیا جہاں ان پر 2020 میں عائد کردہ نارکو ٹیررازم اور منشیات کی سمگلنگ جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مڈورو کی گرفتاری کے لیے 50 ملین ڈالر کا انعام مقرر کر رکھا تھا اور اس کارروائی کو وینزویلا کو منشیات کی ریاست بننے سے بچانے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے، تاہم اس غیر معمولی فوجی آپریشن کو دنیا بھر کے کئی ممالک نے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کی جانب سے کسی دوسرے ملک کے سربراہِ مملکت کو براہ راست فوجی مداخلت کے ذریعے گرفتار کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل 1989 میں پاناما کے لیڈر جنرل مینوئل نوریگا کو بھی اسی نوعیت کے الزامات کے تحت "آپریشن جسٹ کاز” کے ذریعے گرفتار کر کے امریکہ لایا گیا تھا جہاں انہیں 40 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اسی طرح 2003 میں عراق پر حملے کے بعد صدر صدام حسین کو ایک خفیہ بنکر سے گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں عراقی عدالت کے ذریعے انہیں سزائے موت دی گئی، جبکہ ہونڈوراس کے سابق صدر جوآن اورلینڈو ہرنینڈز کو بھی امریکی دباؤ پر گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا گیا جنہیں حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی معافی دی ہے۔ ماہرین مڈورو کی گرفتاری کو نوریگا اور صدام حسین کے بعد تیسری بڑی مثال قرار دے رہے ہیں جہاں امریکہ نے ایک برسرِ اقتدار صدر کو فوجی طاقت سے ہٹایا، جس کے بعد اب وینزویلا کی داخلی سیاست اور اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال انتہائی غیر یقینی ہو گئی ہے۔