سیالکوٹ: ( مدثر رتو کی رپورٹ)وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے صوبہ بھر میں ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ کے استعمال کو لازمی قرار دیے جانے کے بعد سیالکوٹ میں ایک نیا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ شہر کے مصروف بازاروں، پارکنگ ایریاز اور عوامی مقامات سے شہریوں کے ہیلمٹ چوری ہونے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس نے موٹر سائیکل سواروں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ایک طرف چور سرگرم ہیں تو دوسری طرف رہی سہی کسر دکانداروں نے نکال دی ہے، جنہوں نے ہیلمٹ کی طلب بڑھتے ہی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔ شہری اس وقت دوہری مشکل کا شکار ہیں؛ انہیں ایک طرف ہیلمٹ گم ہونے کا ڈر ہے اور دوسری طرف مارکیٹ میں من مانے ریٹس وصول کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث متوسط طبقے کے لیے ہیلمٹ خریدنا بوجھ بن چکا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ کی لازمی شرط کے سرکاری احکامات کا سہارا لے کر بعض عناصر اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ہیلمٹ چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے لیے پولیس کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی، جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ہیلمٹ کی قیمتوں کو سرکاری سطح پر ریگولیٹ کیا جائے اور چوری میں ملوث افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ‘سیف پنجاب’ ویژن کے تحت ٹریفک قوانین پر عملدرآمد بھی ممکن ہو سکے اور عوام کو بلاوجہ کی ذہنی و مالی پریشانی سے نجات مل سکے۔
شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وہ سیالکوٹ میں ہیلمٹ کی مصنوعی مہنگائی اور چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کا فوری نوٹس لیں اور ضلعی انتظامیہ کو قیمتوں کی کڑی نگرانی اور سکیورٹی بہتر بنانے کے خصوصی احکامات جاری کریں۔