چمن(ویب دیسک) ریاستی اداروں اور انسداد پولیو مہم کے خلاف نفرت انگیز مہم، مقدمہ درج

بلوچستان کے ضلع چمن میں سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں اور حکومت پاکستان کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے کے الزام میں پولیس نے ایک شخص کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تھانہ سٹی چمن میں درج کی گئی ایف آئی آر نمبر 129/25 کے مطابق یہ کارروائی تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 504، 505، 153، 506 اور الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعات 11 اور 22 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او محمد ولی کاکڑ نے سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے دوران ایک ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پشتو زبان میں اپ لوڈ کی گئی ویڈیو کا نوٹس لیا، جس میں ملزم نے نہ صرف حکومت اور ریاستی اداروں کے سربراہان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی بلکہ قومی اہمیت کی حامل پولیو مہم کے خلاف بھی انتہائی گمراہ کن پروپیگنڈا کیا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم نے ویڈیو میں عوام کو پولیو کے قطرے پلانے سے روکنے کے لیے اشتعال انگیز بیانات دیے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اس مہم کے خلاف غلیظ اور بے بنیاد الزامات عائد کیے، جس کا مقصد معاشرے میں نفرت اور بداعتمادی پھیلانا تھا۔ پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزم کے اس عمل سے نہ صرف ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی بلکہ عوامی امن و امان کو بھی خطرے میں ڈالا گیا۔ مقدمے کی تفتیش اے ایس آئی غزنی کے سپرد کر دی گئی ہے اور اعلیٰ پولیس حکام کو بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ شواہد کی روشنی میں ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اس قسم کے گمراہ کن مواد سے ہوشیار رہیں اور ایسے عناصر کی فوری نشاندہی کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے