اوچ شریف (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار حبیب خان) 2025ء کے سیلاب کو گزرے طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود اوچ شریف کے نواحی علاقوں میں تباہ حال سڑکوں کی بحالی نہ ہو سکی۔ سرور آباد، بستی چاکر خان، بستی بھگلہ اور ترنڈ بشارت کی کچی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جس کے باعث مقامی شہریوں اور کسانوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی مقامات پر سڑکوں سے پتھر بکھر چکے ہیں اور راستوں کی خستہ حالی نے روزمرہ سفر کو دشوار بنا دیا ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق سیلابی پانی گزرنے کے بعد ان دیہی راستوں کی حالت مزید خراب ہوگئی، لیکن طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ان کی تعمیر و مرمت کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان سڑکوں کی خرابی سے نہ صرف عام شہری متاثر ہو رہے ہیں بلکہ کسانوں کو بھی کھیتوں تک پہنچنے اور زرعی اجناس کی نقل و حمل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں کی یہ سڑکیں ان کی روزمرہ زندگی اور زرعی سرگرمیوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ خراب راستوں کے باعث فصلوں اور دیگر زرعی پیداوار کو منتقل کرنا مشکل ہو رہا ہے، جبکہ شہریوں کو بھی ضروری کاموں کے لیے آمدورفت میں پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔
علاقہ مکینوں نے سوال اٹھایا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے دعووں کے باوجود ان علاقوں کی سڑکیں اب تک کیوں بحال نہیں ہو سکیں؟ ان کے مطابق متاثرہ دیہی آبادی کو ریلیف دینے کے لیے صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
شہریوں اور کسانوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور محکمہ تعمیرات و مواصلات کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرور آباد، بستی چاکر خان، بستی بھگلہ اور ترنڈ بشارت کی سڑکوں کا فوری سروے کرایا جائے اور ان کی تعمیر و بحالی کے لیے فنڈز مختص کرکے کام شروع کیا جائے۔
متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دیہی سڑکوں کی بحالی کو ترجیح دی جائے تاکہ کسانوں اور عام شہریوں کو درپیش مشکلات ختم ہو سکیں۔ ان کا سوال ہے کہ سیلاب سے متاثرہ ان علاقوں کی سڑکیں کب بحال ہوں گی اور مقامی آبادی کو مزید کتنی دیر ان دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا؟