بولیانوال کی تاریخ دراصل اس کے لوگوں، بزرگوں، محسنوں، مذہبی و سماجی روایات، تعلیمی خدمات، میلوں، بیٹھکوں اور باہمی محبت کی تاریخ ہے۔ ڈاکٹر شجاع اختر اعوان نے اپنی یادداشتوں کے ذریعے اس بستی کے ماضی کو محفوظ کرنے اور آنے والی نسلوں کو اپنے بزرگوں، اپنی مٹی اور اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ مضمون کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ بستیاں عمارتوں سے نہیں بلکہ انسانوں کے کردار، ایثار، محبت اور اجتماعی یادداشت سے آباد رہتی ہیں، اس لیے اپنے گاؤں کی تاریخ اور محسنوں کی خدمات کو محفوظ کرنا نئی نسل کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
بولیانوال: مختصر تاریخ، مرحوم شخصیات اور بیتے زمانوں کی یادیں
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
قسط چہارم: بدلتا ہوا گاؤں، ہجرت اور ماضی کو محفوظ رکھنے کا پیغام
وقت کے ساتھ بولیانوال کی معاشرت بھی بدلتی گئی۔ روزگار، تعلیم اور بہتر سہولتوں کی تلاش میں لوگ شہروں کا رخ کرنے لگے۔ جو گلیاں کبھی بچوں کے شور اور لوگوں کی آمدورفت سے آباد رہتی تھیں، وہاں خاموشی بڑھنے لگی۔ جو گھر رشتے داروں، دوستوں اور پڑوسیوں کی آمد سے بھرے رہتے تھے، ان کے دروازوں پر پہلے جیسی رونق نہ رہی۔
نئی نسل کے لیے شہر میں امکانات زیادہ تھے، لیکن اس کے ساتھ اپنے بزرگوں، بچپن کی جگہوں اور اس معاشرت سے فاصلہ بھی پیدا ہوا جس میں ایک شخص کی خوشی یا غم پورے گاؤں کا معاملہ بن جاتا تھا۔ شہر کی زندگی نے سہولتیں دیں، تعلیم اور روزگار کے نئے راستے کھولے اور زندگی کو ایک نئی رفتار عطا کی، لیکن اس کے ساتھ بہت سی پرانی روایتیں بھی آہستہ آہستہ کمزور ہوتی گئیں۔ بیٹھکوں کی رونق، ڈھیروں کی محفلیں، بزرگوں کی باتیں اور بے تکلف میل جول پہلے جیسے نہ رہے۔
یہ بھی پڑھیں
بولیانوال: مختصر تاریخ، مرحوم شخصیات اور بیتے زمانوں کی یادیں ۔ پہلی قسط
بولیانوال: مختصر تاریخ، مرحوم شخصیات اور بیتے زمانوں کی یادیں/دوسری قسط
بولیانوال: مختصر تاریخ، مرحوم شخصیات اور بیتے زمانوں کی یادیں/ تیسری قسط
یہ تبدیلی صرف بولیانوال تک محدود نہیں۔ بہت سے دیہات نے ایسے ہی حالات کا سامنا کیا ہے، جہاں بہتر مستقبل کی تلاش میں نئی نسل شہروں کی طرف چلی گئی اور پیچھے رہ جانے والے گھروں، راستوں اور محفلوں کی رونق میں کمی آنے لگی۔
میں بھی اسی سفر کا مسافر ہوں۔ شہر کی زندگی نے مجھے بہت کچھ دیا، مگر اس نے میرے اندر سے بولیانوال کی یاد نہیں نکالی۔ آج بھی وہ چہرے یاد آتے ہیں جو اب اس دنیا میں نہیں، وہ آوازیں سنائی دیتی ہیں جو وقت کی گرد میں کہیں دب گئی ہیں اور وہ مقامات ذہن میں ابھرتے ہیں جہاں زندگی اپنے پورے رنگ کے ساتھ رواں تھی۔
گاؤں کے بزرگوں کی بیٹھکیں، میلوں کی رونق، مسجد کی اذان، کھیتوں کے راستے اور لوگوں کی بے تکلف قربتیں محض ماضی کے مناظر نہیں؛ یہ میری شخصیت کی تشکیل میں شامل تجربات ہیں۔ کبھی کسی پرانی بات کا خیال آتا ہے تو دل بے اختیار ان دنوں کی طرف لوٹ جاتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کو صرف نام سے نہیں، بلکہ رشتے اور تعلق سے پہچانتے تھے۔ کسی کے گھر خوشی ہوتی تو آس پاس کے لوگ بھی شریک ہو جاتے، اور کسی پر غم آتا تو دوسرے لوگ اس کے دکھ میں شریک ہونے کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔
وہ زمانہ اپنی تمام تر سادگیوں کے باوجود ایک خاص اپنائیت رکھتا تھا۔ وسائل محدود تھے، مگر تعلقات میں وسعت تھی۔ سہولتیں کم تھیں، مگر ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنے کا رواج زیادہ تھا۔
آج جب ان یادوں کو قلم بند کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اپنے گاؤں کی تاریخ لکھنا دراصل اپنی زندگی کے ان حصوں کو محفوظ کرنا ہے جو وقت گزرنے کے باوجود ہمارے اندر زندہ رہتے ہیں۔
شاید ہر شخص کے اندر ایک گاؤں آباد رہتا ہے۔ کوئی اسے تصویروں میں محفوظ کرتا ہے، کوئی تحریر میں، کوئی دعاؤں میں اور کوئی خاموشی سے اپنے دل میں لیے پھرتا ہے۔ میرا گاؤں بھی میرے اندر آباد ہے، مگر اس کی وہ اجتماعی زندگی، کھلے دروازے، بیٹھکیں اور بے تکلف رشتے اب پہلے جیسے کہاں رہے؟ سہولتیں بڑھ گئی ہیں، رابطوں کے ذرائع بدل گئے ہیں اور فاصلے کم کرنے والی مشینیں ہمارے ہاتھوں میں ہیں، مگر دلوں کے درمیان فاصلے کبھی کبھی پہلے سے زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔
اسی لیے ماضی کی طرف دیکھتے ہوئے میں کسی ایک شخص یا عمارت کو نہیں، بلکہ پوری بستی کو یاد کرتا ہوں؛ اس کے لوگوں کو، اس کی بولی کو، اس کی مٹی کو اور ان روایتوں کو جنہوں نے ہمیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھا۔ یہ تحریر صرف گزرے ہوئے لوگوں کے نام گنوانے کی کوشش نہیں، بلکہ اس اجتماعی زندگی کی یادداشت ہے جس نے بولیانوال کو ایک پہچان دی۔ ان مرحوم شخصیات کے تذکروں کے ذریعے میری کوشش ہے کہ وہ خدمات، وہ کردار اور وہ روایات محفوظ رہیں جنہوں نے اس گاؤں کی تاریخ کو تشکیل دیا۔
میری خواہش ہے کہ بولیانوال کے نوجوان اپنے گاؤں کی تاریخ میں دلچسپی لیں، بزرگوں سے ان کے تجربات سنیں، پرانی تصاویر اور دستاویزات جمع کریں اور ان شخصیات کے حالات قلم بند کریں جنہوں نے اس بستی کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیا۔ اس تحریر میں بیان کی گئی مقامی روایات اور بعض تاریخی واقعات کی مزید تحقیق بھی ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے یادوں کے ساتھ مستند تاریخی معلومات بھی محفوظ کی جا سکیں۔
یہ تحریر مکمل تاریخ کا آخری لفظ نہیں، بلکہ ایک ایسی کوشش کا آغاز ہے جسے بولیانوال سے محبت کرنے والے لوگ اپنی یادوں، معلومات اور تحقیق سے مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اگر کسی بزرگ، کسی خاندان یا کسی صاحبِ علم کے پاس اس بستی کی تاریخ سے متعلق مزید معلومات ہوں تو انہیں محفوظ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آخر میں، میں ان تمام مرحوم شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی زندگی میں بولیانوال کی مٹی کو اپنے کردار، محنت اور محبت سے معتبر بنایا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کی نیکیوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔
بولیانوال میرے لیے صرف ماضی کی ایک یاد نہیں، بلکہ میری شناخت کا وہ حصہ ہے جو وقت کے ساتھ مٹنے کے بجائے اور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ میں شہر میں رہتا ہوں، مگر میرے اندر آج بھی ایک گاؤں سانس لیتا ہے؛ اس کی گلیاں، اس کے درخت، اس کی بیٹھکیں، اس کی اذانیں اور اس کے بچھڑے ہوئے لوگ میرے ساتھ زندہ ہیں۔
کیونکہ بستیاں صرف اینٹوں اور پتھروں سے نہیں بنتیں، وہ انسانوں کی محبت، بزرگوں کی دعاؤں، محسنوں کی قربانیوں اور نسل در نسل منتقل ہونے والی یادوں سے آباد رہتی ہیں۔ لوگ رخصت ہو جاتے ہیں، زمانے بدل جاتے ہیں، مگر ان کے اچھے کردار اور نیک اعمال آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن سکتے ہیں۔
بولیانوال کی مٹی کو میرا سلام، اس کے تمام مرحومین کے لیے دعائے مغفرت، اور آنے والی نسلوں کے نام میرا پیغام: اپنے گاؤں کو صرف یاد نہ رکھیے، اس کی تاریخ بھی محفوظ رکھیے؛ کیونکہ جو قومیں اپنی جڑوں کو پہچانتی اور اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں، وہی اپنے مستقبل کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتی ہیں۔
میرا گاؤں بولیانوال کل بھی میرے دل میں آباد تھا، آج بھی ہے اور ان شاء اللہ آنے والی نسلوں کی یادوں میں بھی زندہ رہے گا۔
