بولیانوال کی تاریخ دراصل اس کے لوگوں، بزرگوں، محسنوں، مذہبی و سماجی روایات، تعلیمی خدمات، میلوں، بیٹھکوں اور باہمی محبت کی تاریخ ہے۔ ڈاکٹر شجاع اختر اعوان نے اپنی یادداشتوں کے ذریعے اس بستی کے ماضی کو محفوظ کرنے اور آنے والی نسلوں کو اپنے بزرگوں، اپنی مٹی اور اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ مضمون کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ بستیاں عمارتوں سے نہیں بلکہ انسانوں کے کردار، ایثار، محبت اور اجتماعی یادداشت سے آباد رہتی ہیں، اس لیے اپنے گاؤں کی تاریخ اور محسنوں کی خدمات کو محفوظ کرنا نئی نسل کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
بولیانوال: مختصر تاریخ، مرحوم شخصیات اور بیتے زمانوں کی یادیں
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
قسط اول: بولیانوال کا ماضی، تاریخی روایات اور تعلیمی خدمات
کچھ بستیاں محض گھروں، گلیوں اور راستوں کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے اندر کئی نسلوں کی زندگی، تہذیب، روایات، محبتوں اور یادوں کی پوری داستان سموئے رکھتی ہیں۔ وقت گزرتا ہے، نسلیں بدلتی ہیں، لوگ روزگار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں شہروں کا رخ کرتے ہیں، مگر اپنی مٹی سے جڑا رشتہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ رشتہ کبھی کسی مانوس آواز کی صورت میں دل میں گونجتا ہے، کبھی کسی پرانی بیٹھک کی یاد بن کر آنکھوں میں اترتا ہے اور کبھی کسی بچھڑے ہوئے بزرگ کے خیال سے دل کو اداس کر جاتا ہے۔
میرے لیے بولیانوال بھی محض ضلع اٹک کی ایک بستی نہیں، بلکہ میری زندگی کی کتاب کا وہ روشن باب ہے جس کے اوراق پر میرے بچپن کی شوخیاں، بزرگوں کی شفقت، دوستوں کی بے تکلفیاں، مسجدوں کی اذانیں، میلوں کی رونقیں اور مٹی کی خوشبو آج بھی محفوظ ہیں۔ اس گاؤں کی گلیوں میں میرے ماضی کی آہٹیں بستی ہیں اور اس کے لوگوں کی یادوں میں میری زندگی کے کئی خوب صورت لمحے سانس لیتے ہیں۔
وقت نے مجھے شہر کی مصروف زندگی کا حصہ بنا دیا۔ تقریباً تین دہائیاں اسی شہر میں گزر گئیں۔ میرے بچے بھی یہیں پلے بڑھے، مگر دل کے کسی گوشے میں آج بھی بولیانوال آباد ہے۔ شہر نے سہولتیں دیں، روزگار کے راستے کھولے اور زندگی کو نئی رفتار عطا کی، لیکن وہ اپنائیت کہاں سے لاتا جو گاؤں کی بیٹھک، مسجد کے صحن، بزرگوں کی محفل اور دوستوں کی بے تکلف صحبت میں ملا کرتی تھی۔
وہ زمانہ اپنی تمام تر سادگیوں کے باوجود ایک خاص خوب صورتی رکھتا تھا۔ وسائل محدود تھے، مگر تعلقات میں وسعت تھی۔ سہولتیں کم تھیں، مگر ایک دوسرے کے لیے وقت زیادہ تھا۔ کسی گھر میں خوشی آتی تو پورا گاؤں شریک ہو جاتا اور کسی دروازے پر غم دستک دیتا تو کئی دل سوگوار ہو جاتے تھے۔
آج جب ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وقت نے ہم سے صرف چند عزیز چہرے ہی نہیں چھینے، بلکہ زندگی کے ایک پورے انداز کو بھی دھیرے دھیرے ہم سے جدا کر دیا ہے۔ کئی آوازیں خاموش ہو چکی ہیں، بہت سی بیٹھکیں ویران پڑی ہیں اور وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں جن کے دم سے گاؤں کی رونق اور معاشرت کی خوب صورتی قائم تھی۔
اسی احساس کے تحت میں بولیانوال کی مختصر تاریخ، اس کی مقامی روایات، تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والی شخصیات اور ان مرحوم بزرگوں کا ذکر قلم بند کر رہا ہوں جنہوں نے اپنے کردار، خدمات، محبت اور خلوص سے اس بستی کو پہچان عطا کی۔ یہ تحریر کسی حتمی تاریخی دستاویز کا دعویٰ نہیں، بلکہ اپنے گاؤں کی زبانی تاریخ، بزرگوں کی یادوں اور اپنے مشاہدات کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔
میری خواہش ہے کہ نئی نسل اس تحریر کے ذریعے اپنے بزرگوں کو پہچانے، اپنے گاؤں کے ماضی سے واقف ہو اور یہ جان سکے کہ اس کی مٹی میں کتنی محنت، محبت، قربانیوں اور خدمت کی داستانیں پوشیدہ ہیں۔
بولیانوال، ضلع اٹک کے مرکزی شہر سے تقریباً پندرہ سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقامی روایات کے مطابق یہ بستی چار سو برس سے زائد عرصے سے آباد چلی آ رہی ہے۔ اس کی ابتدا اور ابتدائی آبادکاری کے بارے میں مختلف روایات سننے کو ملتی ہیں۔ ایک روایت اسے شاہ جہاں کے عہد کے آخری زمانے سے جوڑتی ہے، جب بادشاہ علیل تھا، جب کہ دوسری روایت کے مطابق بستی کی باقاعدہ ترقی اور آبادکاری اورنگزیب عالمگیر کے دور میں ہوئی۔
ان روایات کے مستند تاریخی شواہد کی روشنی میں مزید تحقیق ضروری ہے، تاہم یہ اس بات کی عکاسی ضرور کرتی ہیں کہ بولیانوال کا ماضی مقامی حافظے میں نسل در نسل محفوظ رہا ہے۔
گاؤں کے نام کے بارے میں بھی ایک مقامی توضیح مرحوم ملک محمد نواز نمبردار ایڈووکیٹ سے منسوب ہے، جنہوں نے اپنی کتاب ’’سرزمینِ اٹک‘‘ میں اس نام کی ممکنہ وجہ پر روشنی ڈالی۔ اس خیال کے مطابق لفظ ’’بولی‘‘ اور ’’وال‘‘ کا تعلق کسی خاص زبان یا بولی بولنے والے لوگوں سے ہو سکتا ہے۔
کسی بستی کی تاریخ صرف اس کے قدیم ہونے سے نہیں بنتی؛ اس کی اصل تاریخ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی محنت، کردار، قربانی اور خدمت سے اسے جینے کے قابل بناتے ہیں۔ بولیانوال کی تاریخ بھی ایسے ہی لوگوں کی جدوجہد، محبت اور اجتماعی کاوشوں سے عبارت ہے۔
بولیانوال کی تعمیر و ترقی میں ملک محمد اسلم خان نمبردار، ملک فضل داد، ملک اکرم خان قانونگو، ملک منصب دار نمبردار، ماہرِ تعلیم اور ملک محمد نواز نمبردار ایڈووکیٹ کی خدمات اہم رہیں۔ ان کی کوششوں سے بنیادی مرکزِ صحت، لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکول، ویٹرنری ڈسپنسری، پختہ سڑک اور بجلی جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی راہیں ہموار ہوئیں۔
یہ سہولتیں آج معمول کا حصہ دکھائی دیتی ہیں، لیکن تعلیم، صحت، آمدورفت اور روزمرہ ضروریات سے متعلق ان اقدامات نے گاؤں کے لوگوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کیے۔
بولیانوال کی تعلیمی تاریخ میں 1957ء ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جب گاؤں میں سرکاری اسکول کی منظوری ہوئی۔ منظوری کے بعد سب سے بڑا مسئلہ اسکول کے لیے مناسب عمارت کی فراہمی تھا۔
اس موقع پر ملک فضل داد مرحوم اور ملک اسلم خان نمبردار نے اپنی اپنی عمارت اسکول کے لیے پیش کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ سیاسی لحاظ سے دونوں شخصیات گاؤں کے الگ الگ دھڑوں سے تعلق رکھتی تھیں، لیکن بچوں کی تعلیم کے لیے عمارت فراہم کرنے کے معاملے میں دونوں نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔
گاؤں میں تعینات ہونے والے پہلے معلم عبد الخالق مہر صاحب، ساکن ہمک، نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک سادہ مگر غیر جانب دار تجویز پیش کی کہ دونوں حضرات کے ناموں کا قرعہ نکال لیا جائے۔ چنانچہ دونوں ملک صاحبان کے ناموں کے قرعے ڈالے گئے اور قرعہ ملک فضل داد نمبردار مرحوم کے حق میں نکلا۔ یوں بولیانوال کے سرکاری اسکول کا آغاز ملک فضل داد نمبردار کے حجرے سے ہوا۔
یہ واقعہ اس دور کی ایک خوب صورت یادگار ہے، جب سیاسی اختلافات کے باوجود اجتماعی بھلائی کے کاموں میں تعاون کی گنجائش موجود تھی۔ ملک فضل داد مرحوم نے اپنی عمارت تعلیم کے لیے پیش کرکے ایک اہم خدمت انجام دی، جب کہ ملک اسلم خان نمبردار کی جانب سے عمارت فراہم کرنے کی پیشکش بھی ان کے جذبۂ خدمت کی عکاس تھی۔ پہلے معلم عبد الخالق مہر صاحب نے قرعہ اندازی کی تجویز دے کر معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
آج جب ہم بولیانوال میں تعلیم کے سفر پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بنیاد صرف عمارتوں سے نہیں پڑتی، بلکہ ان لوگوں کی نیک نیتی، ایثار اور اجتماعی سوچ سے پڑتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے علم کے دروازے کھولنے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
کچھ نام سماجی خدمت کے حوالے سے آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔ حاجی نواز صاحب کی والدہ انارہ اماں نے سرکاری اسپتال کے لیے قیمتی زمین عطیہ کی، جب کہ امیر بابا، المعروف میرا بابا نمبردار، کی زوجہ زہرہ مائی نے گرلز ہائی اسکول کے لیے قطعۂ اراضی وقف کیا۔ یہ عطیات محض زمین کے ٹکڑے نہیں تھے، بلکہ آنے والی نسلوں کی تعلیم اور لوگوں کی صحت و بہبود کے لیے ایثار کی علامت تھے۔
ملک منصب دار نمبردار ہونے کے ساتھ ماہرِ تعلیم بھی تھے، جب کہ ملک محمد نواز نمبردار ایڈووکیٹ نے سماجی خدمت اور معاشرتی اصلاح میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان دونوں شخصیات کی خدمات میں وفات کے پہلے دن خیرات کے ختم کی روایت کو ختم کروانے کی کوشش بھی شامل تھی، تاکہ غم زدہ خاندانوں پر سوگ کے وقت اضافی مالی اور سماجی بوجھ نہ پڑے۔
