گورنر خیبرپختونخوا کا اسکول حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی، طلبہ کے لیے ملکی و غیر ملکی وظائف بڑھانے پر زور

پشاور ( کیو این این ورلڈ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں دو اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں دیر کالونی اسکول حادثے کی انکوائری رپورٹ، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی، اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات، طلبہ کے لیے وظائف، جامعات کی مالی معاونت اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔

دیر کالونی اسکول حادثے سے متعلق اجلاس میں مشیر تعلیم ڈاکٹر عامر عبداللہ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر فخر عالم عرفان، سیکرٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم اور انکوائری کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران کمیٹی نے گورنر کو انکوائری رپورٹ پیش کی اور حادثے کی وجوہات، متعلقہ افسران کے بیانات، مختلف محکموں کی ذمہ داریوں، نتائج اور سفارشات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

رپورٹ میں اسکول کی عمارت کی تعمیر میں ناقص میٹریل کے استعمال پر اسکول مالک کو ذمہ دار قرار دیا گیا، جبکہ متعلقہ محکموں کی جانب سے غفلت کے حوالے سے بھی گورنر کو آگاہ کیا گیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ رپورٹ کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے محکمہ قانون سے مشاورت کی جائے۔ انہوں نے حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کی بھی ہدایت کی۔

دوسرے اجلاس میں اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات، طلبہ کے لیے وظائف کے مواقع، جامعات کی مالی معاونت اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق امور زیرِ غور آئے۔ اجلاس میں مشیر تعلیم سید عامر عبداللہ، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم عابد اللہ، گورنر کے پرنسپل سیکرٹری، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) ٹیکسلا کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عنایت اللہ خان نے شرکت کی۔

اجلاس میں چیئرمین ایچ ای سی نے گورنر کو خیبرپختونخوا کے طلبہ کے لیے وظائف اور مالی معاونت کے دستیاب مواقع سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر مالی معاونت کے ذریعے اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے، صوبے بھر میں تعلیمی مواقع کو وسعت دینے اور جامعات کی تعلیمی و ادارہ جاتی ترقی کے لیے مالی وسائل کے ذرائع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں ڈیرہ اسماعیل خان میں دو یونیورسٹی کیمپسز کے قیام کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان تجاویز کے مطابق ایک کیمپس یو ای ٹی پشاور اور دوسرا ویمن یونیورسٹی پشاور کا ہوگا، جس کا مقصد خطے میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو مزید وسعت دینا ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی نے گورنر کو بتایا کہ خیبرپختونخوا کے طلبہ اور اسکالرز کے لیے غیر ملکی وظائف کے امکانات بھی تلاش کیے جائیں گے، جبکہ دنیا کی نمایاں جامعات کے ساتھ تعاون کے ذریعے طلبہ کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے مجوزہ کیمپسز کے قیام اور صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے فروغ کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اجلاس میں وائس چانسلرز کی کارکردگی جانچنے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں مؤثر کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز) تشکیل دینے اور ان کے حصول کا جائزہ لینے کے طریقۂ کار پر تبادلہ خیال ہوا۔ شرکا نے ادارہ جاتی احتساب مضبوط بنانے، انتظامی امور بہتر کرنے اور تعلیمی معیار و جامعات کی کارکردگی میں قابلِ پیمائش پیش رفت یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے