بولیانوال کی تاریخ دراصل اس کے لوگوں، بزرگوں، محسنوں، مذہبی و سماجی روایات، تعلیمی خدمات، میلوں، بیٹھکوں اور باہمی محبت کی تاریخ ہے۔ ڈاکٹر شجاع اختر اعوان نے اپنی یادداشتوں کے ذریعے اس بستی کے ماضی کو محفوظ کرنے اور آنے والی نسلوں کو اپنے بزرگوں، اپنی مٹی اور اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ مضمون کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ بستیاں عمارتوں سے نہیں بلکہ انسانوں کے کردار، ایثار، محبت اور اجتماعی یادداشت سے آباد رہتی ہیں، اس لیے اپنے گاؤں کی تاریخ اور محسنوں کی خدمات کو محفوظ کرنا نئی نسل کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
بولیانوال: مختصر تاریخ، مرحوم شخصیات اور بیتے زمانوں کی یادیں
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
قسط دوم: بزرگ شخصیات، مذہبی روایات اور حضرت سخی بالا پیر سرکار کا میلہ
سید لال شاہ صاحب بھی بستی کی انتہائی قابلِ احترام شخصیت تھے۔ ان کا نام عزت و توقیر سے لیا جاتا تھا اور گاؤں کے اجتماعی حافظے میں ان کا مقام نمایاں ہے۔ شیر افسر ملک لوگوں کے تنازعات گفت و شنید اور جرگے کے ذریعے سلجھانے میں کردار ادا کرتے تھے، جب کہ بابا خاکی نمبردار اپنی معاملہ فہمی اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے باعث جانے جاتے تھے۔
ایسے لوگ کسی بڑے عہدے سے نہیں، بلکہ اپنے کردار، دیانت اور لوگوں کے اعتماد سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی موجودگی معاشرے میں توازن پیدا کرتی تھی اور ان کی بات کو اہمیت دی جاتی تھی۔
بابا امانت مرحوم کی بہادری کے قصے ضلع بھر میں سنائے جاتے تھے۔ پنجاب پولیس کے رحمت سپاہی، لارنس پور ملز سے وابستہ احمد خان اور محبوب یاکی خان، پیر کوٹ راضی خان، کالا مغل اور مستی خان کے نام بھی مقامی یادداشت میں محفوظ ہیں۔ میرے دادا ملک اورنگزیب خان کی جرأت کے واقعات بھی خاندانی اور مقامی یادداشت کا حصہ ہیں۔
ایسے قصوں میں وقت کے ساتھ مبالغہ بھی شامل ہو سکتا ہے، لیکن ان کے پیچھے اپنے بزرگوں کے لیے محبت، احترام اور فخر کا جذبہ ضرور موجود ہوتا ہے۔ یہ واقعات ہماری زبانی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔
اس مضمون کی پہلی قسط پرھنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں
بولیانوال: مختصر تاریخ، مرحوم شخصیات اور بیتے زمانوں کی یادیں
دادا کے بھائی جہانگیر خان مرحوم کی افسانوی کہانیاں بھی اسی زبانی روایت کا حصہ تھیں۔ ان کے بیان میں واقعہ اور تخیل اس طرح گھل مل جاتے کہ سننے والے دیر تک محظوظ رہتے۔ ان کی محفلوں میں قصے صرف تفریح کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ ایک نسل سے دوسری نسل تک تجربات، اقدار اور تخیل منتقل کرنے کا وسیلہ بھی تھے۔
ہمارے بزرگوں کے پاس قصے تھے، تجربات تھے اور زندگی کو دیکھنے کا اپنا انداز تھا۔ ان کی گفتگو میں کبھی مزاح ہوتا، کبھی نصیحت اور کبھی کسی گزرے ہوئے زمانے کی جھلک۔ آج جب ان محفلوں کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ صرف چند افراد نہیں گئے، بلکہ زندگی کا ایک پورا انداز بھی رفتہ رفتہ رخصت ہو گیا۔
بولیانوال کی مذہبی زندگی میں میرے والد، مرحوم سابق کونسلر بہارم خان، کی اذان کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی آواز میں ایسی گونج تھی جو گاؤں کے ماحول میں ایک الگ تاثیر پیدا کرتی تھی۔ اذان کی آواز جب فضا میں بلند ہوتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے روزمرہ زندگی کی مصروفیات میں ایک لمحے کے لیے ٹھہراؤ آ گیا ہو۔
محبت خان، بابا فتح محمد، بابا داؤد اسماعیل مغل اور بابا اصغر جیسے بزرگ بھی تادمِ مرگ مؤذن کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کی دینی خدمات اور گاؤں کی مذہبی زندگی سے وابستگی انہیں لوگوں کے حافظے میں زندہ رکھتی ہے۔ بشیر اور نزیر دو بھائیوں نے بطور خادمین مساجد کی عرصہ تک خدمت کی۔
مسجدوں کے ماحول میں قاری شیر محمد قریشی اور مولانا اسحاق کی خدمات کا ذکر بھی احترام سے ہوتا ہے۔ دیہات میں مسجد محض عبادت گاہ نہیں ہوتی؛ وہ مشورے، میل ملاقات اور اجتماعی زندگی کا مرکز بھی ہوتی ہے۔ وہاں لوگوں کے دکھ سنے جاتے، خوشیوں کی خبر بانٹی جاتی اور باہمی تعلقات مضبوط ہوتے تھے۔
ان بزرگوں کی آوازیں، ان کی دعائیں اور ان کی موجودگی گاؤں کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سی آوازیں خاموش ہو گئیں، مگر ان کی یاد آج بھی دل میں ایک مانوس احساس جگاتی ہے۔
بولیانوال کی روحانی شناخت حضرت سخی بالا پیر سرکار کے مزار کے بغیر ادھوری ہے۔ یہاں ہر سال آٹھ روزہ میلہ منعقد ہوتا تھا، جس میں دور دراز سے عقیدت مند آتے اور بستی میں غیر معمولی رونق پیدا ہو جاتی تھی۔
ہر جمعرات کی صبح نقارے کی آواز اور میلے کے آغاز میں ڈالیاں، دھول پر دھمال، محفلِ سماع، عقیدت مندوں کی حاضری اور اسٹالوں کی گہماگہمی اس اجتماع کو مذہبی عقیدت کے ساتھ مقامی ثقافت کا رنگ بھی دیتی تھی۔ بابا شاکر حاصل خان اور صفدر خاں کی درباری دھمال اور مرحوم عبدالخالق کی بانسری اس ماحول کی یادگار آوازیں تھیں۔ سجادہ نشین سید بہادر شاہ پیر، سید اکبر شاہ کا نام بھی اس روحانی روایت سے وابستہ ہے۔
یہ میلہ صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں تھا، بلکہ دور کے عزیزوں سے ملاقات، پرانے تعلقات کی تجدید اور گاؤں کی اجتماعی خوشی کا موقع بھی تھا۔ لوگ اپنے گھروں اور ڈھیروں میں مہمانوں کا استقبال کرتے، ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے اور اپنی خوشیوں میں سب کو شریک کرتے تھے۔
میلے کے دنوں میں گاؤں کا رنگ ہی بدل جاتا تھا۔ مانوس گلیاں، لوگوں کا ہجوم، دکانوں کی رونق، محفلوں کی آوازیں اور عزیزوں کی آمد ایک ایسی فضا پیدا کرتی تھیں جسے لفظوں میں پوری طرح بیان کرنا آسان نہیں۔ وہ دن گزر گئے، مگر ان سے وابستہ یادیں آج بھی دل میں زندہ ہیں۔
سید منظور شاہ مرحوم عوامی خدمت کے حوالے سے یاد کیے جاتے ہیں، جب کہ سید سجاول حسین شاہ خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے بچوں کے دوستوں کا استقبال کرتے تھے۔ ان کے ڈیرے کا چولہا مہمانوں کے لیے جلتا رہتا تھا۔ ان کے ہاں آنے والا شخص اجنبیت محسوس نہیں کرتا تھا، بلکہ اپنائیت اور محبت کے ماحول میں بیٹھتا تھا۔
سید حیات حسین شاہ، منور شاہ، ملک نثار نائب تحصیلدار اور بابو فضل خان کے حجرے میں عرس اور میلے کے موقع پر دسترخوان سجتے تھے۔ مہمانوں کی خوب خاطر مدارات کی جاتی اور ہر شخص کو عزت و احترام دیا جاتا تھا۔
مہمان نوازی کا یہ وصف ہماری تہذیب کا ایسا حصہ تھا جس پر ہمیں بجا طور پر فخر رہا ہے۔ آج بھی ان حجروں اور دسترخوانوں کا خیال آتا ہے تو ان لوگوں کی محبت یاد آتی ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں دوسروں کے لیے جگہ بنائے رکھی۔
گاؤں کی تاریخ اور اجتماعی حافظے میں منشی بابا بنگلے والے اور سید حلیم شاہ پیر کا ذکر بھی اہم ہے۔ دونوں شخصیات نے بولیانوال سے شہر کی طرف جانے والے کچے راستوں کو سڑک کی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دربار پر مسجد کی تعمیر بھی منشی بابا اور دیگر لوگوں کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔
ملک حاجی لال خان تعلیم کے شعبے سے وابستگی، فہم و فراست اور رہنمائی کے باعث رہبر و راہنما کا درجہ رکھتے تھے۔ فاریسٹ گارڈ اور عالمی جنگ کے انعام و اعزاز یافتہ شیر علی خان، پیر کوٹ، اپنی مثال آپ تھے۔ منشی رحیم داد، پیر خان بابا، جو فاریسٹ گارڈ بھی تھے اور بہترین شکاری بھی، اپنی الگ شناخت رکھتے تھے۔
ملک خضر حیات سابق کونسلر، بابا سردار بہادر گلشیئری، حاجی عجب خان، سرور، سدا بہار کونسلر، ملک غلام سرور، سید ریاض شاہ، ماسٹر امتیاز شاہ مرحوم، ماسٹر احمد خان اور ماسٹر زمرد خان، جن کو اقبال سمیت شعرا کے دیوان ازبر تھے، دیگر کئی اہم شخصیات کے نام بھی گاؤں کی یادوں میں محفوظ ہیں۔
ہر شخصیت کا اپنا زمانہ، اپنا دائرۂ کار اور اپنی پہچان تھی۔ کسی نے تعلیم کے ذریعے، کسی نے سماجی خدمت سے، کسی نے انتظامی ذمہ داریوں کے ذریعے اور کسی نے اپنے کردار اور تعلقات کی بدولت لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان سب کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ کسی بستی کی تاریخ کسی ایک خاندان یا ایک دور تک محدود نہیں ہوتی۔
مقامی روایت کے مطابق حاجی عجب خان اور مسکین خان نے عالمی جنگوں کے زمانے میں فوجی خدمات انجام دیں۔ تاریخ صرف وہ نہیں ہوتی جو کتابوں میں درج ہو؛ اس کا ایک حصہ لوگوں کی یادوں، خاندانی قصوں اور مقامی روایتوں میں بھی زندہ رہتا ہے۔
