سارہ علی خان نے خاندانی پس منظر کے فوائد تسلیم کر لیے، مگر کامیابی میں محنت کو بھی اہم قرار دے دیا

ممبئی (کیو این این ورلڈ) بالی ووڈ اداکارہ سارہ علی خان کا کہنا ہے کہ معروف فلمی خاندان سے تعلق ہونے کے باعث انہیں بھارتی فلمی صنعت تک رسائی اور مواقع حاصل کرنے میں مدد ضرور ملی، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی کامیابی میں محنت کا کوئی کردار نہیں۔ ان کے مطابق اقربا پروری پر ہونے والی بحث میں بعض اوقات فنکاروں کی ذاتی کوششوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

سارہ علی خان کا تعلق بالی ووڈ کے ایک معروف فلمی گھرانے سے ہے۔ ان کی دادی شرمیلا ٹیگور جبکہ والدین امریتا سنگھ اور سیف علی خان بھی اداکاری کے شعبے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کا خاندانی پس منظر ان کے لیے سہولت کا باعث بنا یا دباؤ کا، تو انہوں نے کہا کہ اس کے دونوں پہلو موجود ہیں۔

اداکارہ کے مطابق وہ اتنی ناسمجھ نہیں کہ اپنے خاندانی پس منظر سے ملنے والے فوائد کو تسلیم نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تعلق نے ان کے لیے فلمی دنیا کے دروازے کھولے اور شناخت و شہرت حاصل کرنے میں مدد دی، تاہم اقربا پروری کو صرف منفی انداز میں دیکھنے سے فنکاروں کی اپنی محنت بھی پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

سارہ علی خان نے کہا کہ انہوں نے، جھانوی کپور اور اننیا پانڈے سمیت کسی بھی اداکارہ نے یہ فیصلہ خود نہیں کیا تھا کہ وہ کس گھرانے میں پیدا ہوں گی۔ ان کے مطابق کسی فنکار کے خاندانی پس منظر کی بنیاد پر اس کی تمام تر کوششوں کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔

اپنے حالات کا ذکر کرتے ہوئے سارہ علی خان نے کہا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہیں اور ان کے لیے فلمی دفاتر میں جا کر معاہدے طے کروانے یا لوگوں سے کردار دلوانے کی درخواستیں کرنے والا کوئی والد موجود نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلمی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے پاس کوئی ایسا گاڈ فادر نہیں تھا جو ان کے لیے فلمیں حاصل کرنے کی خاطر سفارشیں کرتا۔

اداکارہ کے مطابق خاندانی پس منظر نے ایک طرف انہیں مواقع اور پہچان فراہم کی، تو دوسری جانب ان سے وابستہ توقعات بھی زیادہ رہیں۔ ان کے خیال میں اقربا پروری کے معاملے کو صرف ایک زاویے سے دیکھنے کے بجائے اس کے دونوں پہلوؤں کو تسلیم کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے