پشاور (کیو این این ورلڈ) گورنر ہاؤس پشاور میں متاثرینِ خیبر کے لیے ہلالِ احمر پاکستان کے ضم اضلاع چیپٹر کی جانب سے مالی معاونت کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انسانیت کی خدمت کے لیے ہلالِ احمر پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ صوبے میں امن کا قیام اولین ترجیح ہے، کیونکہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں قیامِ امن کے ساتھ ضم اضلاع کی ترقی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور کھیلوں کے میدان آباد کرنا بھی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر توجہ دے کر عوام کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
گورنر نے مالی معاونت کی تقسیم میں شفافیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہلالِ احمر پاکستان کو امدادی رقوم کی تقسیم شفاف انداز میں یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے میں کبھی سفارش نہیں کی اور شفافیت پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے، جس کے 70 فیصد فنڈز ضم اضلاع کی ترقی پر خرچ کیے جائیں گے۔ گورنر کے مطابق ان علاقوں کی ترقی کے لیے مختص فنڈز شفاف انداز میں استعمال کیے جائیں گے اور وہ اس حوالے سے احتساب کے لیے بھی تیار ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے کسی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہیں، کیونکہ امن کے بغیر ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، جنہیں مثبت سرگرمیوں، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
گورنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضرورت مند اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ہلالِ احمر پاکستان اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے ساتھ مستقبل میں بھی تعاون جاری رکھا جائے گا، تاکہ امدادی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں اور فریقین کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ خیبرپختونخوا کو پُرامن، ترقی یافتہ اور خوشحال صوبہ بنایا جا سکے۔