ننکانہ صاحب: متروکہ وقف املاک میں اربوں کی بے ضابطگیاں، تفتیش ٹھپ، من پسند افسران کو دوبارہ اہم عہدے مل گئے

ننکانہ صاحب ( کیو این این ورلڈ/بیوروچیف احسان اللہ ایاز) متروکہ وقف املاک بورڈ ننکانہ زون میں اہم انتظامی عہدوں پر ہونے والی حالیہ تعیناتیوں نے اربوں روپے کی مذہبی و تاریخی اراضی پر مبینہ قبضوں اور سنگین مالی بے ضابطگیوں کا بڑا اسکینڈل کھڑا کر دیا ہے۔ تمام تر کرپشن اور ملی بھگت پر پردہ ڈالتے ہوئے اور ایک دوسرے کو ‘پارسائی کا سرٹیفکیٹ’ دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی 12 صفحات پر مشتمل خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ کو دبا دیا گیا ہے، جبکہ مشکوک ریکارڈ کے حامل افسران کو دوبارہ انہی عہدوں پر براجمان کر دیا گیا ہے۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق 30 جولائی 2024 کو ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب کے دفتر سے مراسلہ نمبر 1678 کے ذریعے چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ لاہور کو ایک تفصیلی انٹیلی جنس رپورٹ ارسال کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں 18 ہزار 215 ایکڑ پر محیط متروکہ وقف املاک کی رہائشی و کمرشل اراضی پر مبینہ قبضوں، غیر قانونی تعمیرات اور بعض موجودہ و سابق افسران کی مبینہ سہولت کاری کا سنسنی خیز افشا کیا گیا تھا اور معاملے کی جامع انکوائری کی سفارش کی گئی تھی۔

خفیہ رپورٹ میں مخصوص غیر قانونی تعمیرات کی نوعیت اور ان کے عوض وصول کی جانے والی مبینہ رشوت کی تفصیلات بھی درج تھیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ قیمتی اراضی اور پلاٹوں کی غیر قانونی خرید و فروخت سے تاریخی و مذہبی ورثے کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے، تاہم دو سال گزرنے کے باوجود اس رپورٹ پر کوئی حتمی کارروائی کرنے کے بجائے معاملے کو باہمی رضامندی سے دبا دیا گیا۔

اس تمام تر صورتحال کے باوجود 15 ستمبر 2026 کو جاری کردہ آرڈر نمبر 5619 کے تحت تنویر حسین کو دوسری بار ایڈمنسٹریٹر جبکہ آرڈر نمبر 5620 کے تحت عمر جاوید اعوان کو تیسری بار ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر ننکانہ تعینات کر دیا گیا ہے۔ عمر جاوید اعوان اس سے قبل بھی دو مختلف ادوار میں بطور ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر تعینات رہ چکے ہیں، جس سے تعیناتی کے طریقہ کار اور شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ان متنازع تعیناتیوں کے بعد سوالات اٹھ رہے ہیں کہ 12 صفحات پر مشتمل انٹیلی جنس رپورٹ کے نتائج کا کیا ہوا اور کیا غیر قانونی تعمیرات و مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی؟ اگر افسران کو کلیئر کر دیا گیا تھا تو اس کا ریکارڈ سامنے کیوں نہیں لایا گیا، اور اگر تحقیقات زیر التوا تھیں تو انہی افسران کو دوبارہ کیوں تعینات کیا گیا؟

عوامی و صحافتی حلقوں نے چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2024 کی انٹیلی جنس رپورٹ کی روشنی میں 15 ستمبر 2026 کے تعیناتی احکامات کا فوری ازسرنو جائزہ لیں۔ اربوں روپے کی 18 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی کی حفاظت کے لیے تمام مبینہ مالی وصولیوں اور جعلی تعمیرات کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرا کے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے