کندھ کوٹ (نامہ نگار) تعلقہ ہسپتال کندھ کوٹ میں بنیادی طبی سہولیات کی مبینہ کمی کے باعث علاج کے لیے آنے والے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ دور دراز علاقوں سے علاج کی امید لے کر اسپتال پہنچنے والے غریب مریضوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کی مبینہ عدم موجودگی، مناسب طبی معائنے اور ضروری سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مریضوں اور شہریوں کے مطابق ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں فرسٹ ایڈ سمیت بنیادی سہولیات کی مبینہ کمی بھی موجود ہے، جس کے باعث فوری طبی امداد کے ضرورت مند مریضوں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔ بروقت علاج اور تشخیص کی سہولت نہ ملنے پر بعض مریضوں کو دیگر اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے غریب خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
شہریوں اور متاثرہ مریضوں کے ورثاء کا کہنا ہے کہ تعلقہ ہسپتال میں ایکسرے، ڈائلیسز اور تھلیسمیا سمیت اہم طبی سہولیات کے لیے موجود لاکھوں روپے مالیت کی مشینری بھی مبینہ طور پر طویل عرصے سے غیر فعال ہے۔ مشینری فعال نہ ہونے کے باعث مریضوں کو ضروری ٹیسٹ اور علاج کے لیے دیگر مراکز پر جانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
مریضوں اور شہریوں نے تعلقہ اسپتال کی صورتحال پر ڈی ایچ او کشمور اور ایم ایس تعلقہ اسپتال کندھ کوٹ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ڈاکٹرز کی حاضری، ایمرجنسی کی سہولیات اور طبی مشینری کی فعالیت کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے تو مریضوں کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔
شہریوں نے محکمہ صحت کے ذمہ دار افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صرف دفتری رپورٹس پر انحصار کرنے کے بجائے ہسپتال کے اچانک اور عملی معائنے کریں تاکہ مریضوں کو درپیش حقیقی مسائل کا جائزہ لیا جاسکے۔
مریضوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتال غریب عوام کے علاج کا اہم سہارا ہیں، اس لیے یہاں بنیادی علاج، تشخیص اور ایمرجنسی کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
انہوں نے سندھ حکومت، محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلقہ ہسپتال کندھ کوٹ کی صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، ڈاکٹرز کی حاضری یقینی بنائی جائے، ایمرجنسی میں بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جائیں، غیر فعال طبی مشینری کو فوری طور پر فعال کیا جائے اور انتظامی غفلت سے متعلق شکایات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔