خیبر پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کارروائی، مغوی تاجر حاجی ظریف 33 دن بعد بحفاظت

خیبر (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف نصیب شاہ شینواری) خیبر پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے 33 دن بعد جدید سائنسی تحقیقات اور مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں مغوی تاجر حاجی ظریف کو بحفاظت بازیاب کروا کر اغواء کاروں کا نیٹ ورک بے نقاب کر دیا ہے اور اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبر وقار احمد کے مطابق حاجی ظریف کو 7 اگست کو اغواء کیا گیا تھا، جس کی ایف آئی آر اسی روز تھانہ لنڈی کوتل میں درج کی گئی۔ واقعے کے فوراً بعد ایس پی انویسٹیگیشن شفیق خان کی سربراہی میں پولیس نے جدید سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر تحقیقات کا آغاز کیا۔

ڈی پی او خیبر نے بتایا کہ کیس کی تفتیش میں ایس پی انویسٹیگیشن شفیق خان اور ایس ایچ او لنڈی کوتل عدنان خان نے شب و روز محنت کی، جبکہ وہ خود کیس کی مسلسل نگرانی کرتے رہے۔ حاجی ظریف کی بازیابی میں فرنٹیئر کور، خیبر رائفلز، ایف آئی اے، سی ٹی ڈی اور آئی بی کا بھی بھرپور تعاون شامل رہا۔

اغواء کاروں کی جانب سے 3 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پولیس نے آئی پی ڈی آر، انٹرنیٹ پروٹوکول ڈیٹا اور واٹس ایپ رابطوں کے سائنسی شواہد کو یکجا کرکے چار مرکزی ملزمان کی نشاندہی کی۔ گرفتار ملزمان میں فیاض سدو خیل، عمر علی سیدو خیل اور خیال بادشاہ عرف گلولنو شامل ہیں، جن میں سے تین کا تعلق لنڈی کوتل اور ایک کا پشاور سے ہے۔

ملزمان کی لوکیشن کراچی میں سامنے آنے کے بعد جب انہوں نے موبائل فون بند کیے، تو پولیس نے سہولت کاروں اور معاونین کو گرفتار کرکے دباؤ بڑھایا۔ اس دوران تقریباً 16 سے 17 افراد کو حراست میں لیا گیا، جس کے بعد اغواء کاروں نے اپنے گرفتار افراد کو چھوڑنے کے بدلے مغوی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

گزشتہ رات ایک اہم سراغ ملنے پر پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کیا، جس سے تفتیش کے بعد رات 12 بجے کے بعد مغوی کی موجودگی کے مقام کا پتہ چلا۔

اس پیش رفت کے بعد ایس ایچ او لنڈی کوتل اور خیبر رائفلز کے افسران پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے نشاندہی پر پہاڑ کے دامن میں کارروائی کرتے ہوئے حاجی ظریف کو بحفاظت بازیاب کروا لیا۔ ڈی پی او خیبر وقار احمد نے تمام سیکیورٹی اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جاتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے