سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے: عالمی ثالثی عدالت

اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ) عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اس کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے۔

عدالت نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کے اقدام کو مکمل طور پر غیر مؤثر قرار دیا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ بھارت کے پاس اس معاہدے کو معطل یا ختم کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کے مطابق دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر بھارت کے تمام پن بجلی منصوبے سندھ طاس معاہدے میں درج ضوابط اور پابندیوں کے تابع رہیں گے۔

عدالت نے رتلے ہائیڈرو پاور منصوبے کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے دائر کی گئی عبوری اقدامات کی درخواست بھی منظور کر لی ہے۔ فیصلے کے تحت بھارت کو رتلے ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کے مخصوص حصوں پر کنکریٹ ڈالنے سے روک دیا گیا ہے۔

رتلے منصوبے پر عائد یہ پابندیاں غیر جانب دار ماہر کے فیصلے کے 90 روز بعد تک برقرار رہیں گی، جبکہ اس منصوبے سے متعلق غیر جانب دار ماہر کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے۔

مزید برآں، عدالت نے قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت پر یہ فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامل تائید کرتا ہے۔ مستقل ثالثی عدالت کے یہ تمام فیصلے حساس اور خفیہ معلومات کو حذف کرنے کے بعد ویب سائٹ پر جاری کر دیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے