محمد غازی سیال: بنوں کی مٹی کا خاموش شاعر
تحریر: منور شاہ منور
بابائے سندرہ محمد غازی سیالؔ، لفظ، لہجے اور مٹی کی خوشبو کا شاعر۔ کچھ لوگ دنیا سے رخصت نہیں ہوتے، صرف ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ ان کا جسم مٹی کے سپرد ہو جاتا ہے، مگر ان کے لفظ، ان کی آواز، ان کا فن اور ان کی یادیں زمانے کے حافظے میں زندہ رہتی ہیں۔ غازی سیال بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے، جنہوں نے بنوں کی مٹی سے اٹھ کر پشتو زبان و ادب کے افق پر ایسا چراغ روشن کیا جس کی روشنی آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔
27 نومبر 2019ء میں جب بنوں کے اس عظیم سپوت نے دنیا سے رخصت لی تو محض ایک شاعر، ادیب، افسانہ نگار یا نثر نگار ہم سے جدا نہیں ہوا، بلکہ پشتو ادب کا ایک پورا عہد اپنی یادیں چھوڑ گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے بھی ان کے انتقال پر انہیں پشتو کے اہم شاعر، ادیب، محقق، دانشور اور ناول نگار قرار دیتے ہوئے ان کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں! یہ مصرعہ غازی سیالؔ کی وفات پر نہ جانے کیوں بار بار یاد آتا ہے۔ واقعی، انسانی تاریخ کی کتنی ہی روشن صورتیں خاک میں چھپ جاتی ہیں، مگر بعض چہرے وقت کی گرد میں بھی دھندلے نہیں ہوتے۔
غازی سیال کا تعلق بنوں کے علاقے منڈان، اخوندان سے تھا۔ 1933ء میں پیدا ہونے والے اس درویش صفت ادیب نے رسمی تعلیم کے محدود وسائل کے باوجود اپنے مطالعے، مشاہدے، ذہانت اور غیر معمولی تخلیقی صلاحیت سے پشتو ادب میں وہ مقام حاصل کیا جو بڑے بڑے ادارہ یافتہ اہلِ قلم کے لیے بھی آسان نہیں۔
یہی غازی سیالؔ کی شخصیت کا سب سے حیرت انگیز پہلو ہے کہ وہ کسی روایتی علمی ادارے کے فارغ التحصیل نہ ہونے کے باوجود ایک عظیم دانشور، شاعر، افسانہ نگار، نثر نگار اور محقق بن گئے۔ ان کا اصل مدرسہ زندگی تھی، ان کی کتاب انسان تھا، ان کا نصاب معاشرہ تھا اور ان کی درس گاہ بنوں کی مٹی، حجرہ، بازار، کھیت، گاؤں اور پشتون معاشرت تھی۔
غازی سیالؔ کی شاعری محض الفاظ کا خوبصورت مجموعہ نہیں تھی۔ اس میں بنوں کی مٹی کی خوشبو، پشتون معاشرت کی دھڑکن، لوک روایات کی بازگشت اور عام انسان کے دکھ سکھ کی تصویریں ملتی ہیں۔ ان کی شاعری تصنع، بناوٹ اور مصنوعی فلسفے سے دور تھی۔ وہ زندگی کو جس طرح دیکھتے، اسی سادگی اور روانی سے اسے لفظوں کا لباس پہنا دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شعر خواص کے ساتھ ساتھ عام آدمی کے دل میں بھی اترتا تھا۔
غازی سیالؔ کے ہاں پشتون تہذیب محض موضوع نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے۔ ان کی شاعری میں گاؤں کی پگڈنڈیاں، حجرے کی گفتگو، رشتوں کی حرارت، محبت کی کسک، جدائی کا درد اور دھرتی سے وابستگی ایک ساتھ سانس لیتی ہے۔ ان کا قلم اپنے عہد کے پختون معاشرے کا آئینہ تھا۔
پشتو ادب میں غازی سیالؔ کی سب سے نمایاں شناخت سندرہ ہے۔ انہوں نے پشتو گیت کو محض تفریح یا موسیقی کا وسیلہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ادبی اظہار کا ایک مؤثر ذریعہ بنایا۔ ان کے بے شمار گیت نامور گلوکاروں نے گائے اور پشتو موسیقی کے سنہری دور کا حصہ بنے۔ خاص طور پر گلنار بیگم کی آواز کے ساتھ غازی سیالؔ کے الفاظ نے پشتو موسیقی میں ایک ایسی کیفیت پیدا کی جو آج بھی سامعین کے دلوں کو چھوتی ہے۔
غازی سیالؔ نے خود گلنار بیگم کے فن اور زندگی کے بارے میں لکھا اور ان کی شخصیت پر ’’د سندرې روح‘‘ کے نام سے کتاب بھی تخلیق کی؛ یہ کتاب 2000ء میں شائع ہوئی اور 232 صفحات پر مشتمل تھی۔ غازی سیالؔ اور گلنار بیگم کا فنی تعلق پشتو موسیقی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ غازی سیال کے الفاظ اور گلنار بیگم کی آواز نے ایک دوسرے کو وہ تاثیر عطا کی جس سے دونوں کا فن آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ خود غازی سیالؔ کے حوالے سے منقول ہے کہ انہوں نے گلنار بیگم کے لیے گیت لکھے اور ان کے تلفظ کی درستی میں بھی مدد کی۔ یہاں شاعر اور گلوکارہ کا تعلق محض تخلیق کار اور فنکار کا نہیں تھا؛ یہ لفظ اور آواز کا ایسا امتزاج تھا جس نے پشتو موسیقی کو نئی جمالیاتی جہت دی۔
غازی سیالؔ کا ادبی سرمایہ خاصا وسیع ہے۔ ان کی تصانیف میں ’’ژوند او خکلا‘‘، ’’د سندرې روح‘‘، ’’حرفونہ خبرے کوی‘‘، ’’بنزئے‘‘، ’’زما سندرې ستا دپارہ‘‘، ’’سیورے‘‘ اور ’’د حرا نور‘‘ سمیت متعدد کتابیں شامل ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے مطابق وہ درجن سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ یہ کتابیں صرف غازی سیالؔ کی انفرادی تخلیقی صلاحیت کا ثبوت نہیں بلکہ پشتو زبان کے ادبی، ثقافتی اور سماجی حافظے کا حصہ ہیں۔ خاص طور پر ’’د سندرې روح‘‘ جیسی تصنیف اس بات کا ثبوت ہے کہ غازی سیالؔ موسیقی کو محض گانے بجانے کا فن نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے پشتون معاشرے کی روحانی اور تہذیبی روایت کا حصہ تصور کرتے تھے۔
غازی سیالؔ کی شخصیت صرف شاعر تک محدود نہیں تھی۔ وہ افسانہ نگار، نثر نگار، محقق اور دانشور بھی تھے۔ ان کے افسانوں اور نثر میں زندگی کے عام کرداروں کی جھلک ملتی ہے۔ ان کی نظر سماج کے ان گوشوں تک جاتی تھی جہاں اکثر بڑے ادیبوں کی نگاہ نہیں پہنچتی۔ ان کا کمال یہ تھا کہ وہ معمولی دکھائی دینے والے واقعے میں بھی غیر معمولی انسانی معنویت تلاش کر لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ادب محض لفظی حسن کا نمونہ نہیں بلکہ انسانی تجربے کی دستاویز بن جاتا ہے۔ ان کی بعض تخلیقات کا اعلیٰ تعلیمی سطح پر پشتو ادب کے نصاب میں شامل ہونا بھی ان کے ادبی مقام کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں غازی سیالؔ کی تحریریں صرف ایک زمانے کی پسند نہیں رہیں بلکہ علمی مطالعے کا حصہ بن گئیں۔
2005ء میں حکومتِ پاکستان نے پشتو ادب میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ اس کے علاوہ بھی انہیں مختلف ادبی اعزازات ملے۔ لیکن غازی سیالؔ کی اصل عظمت شاید ان اعزازات سے کہیں آگے تھی۔
ان کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو ان کی سادگی اور انکساری تھی۔ 29 اپریل 2005ء کو ’’گرینڈ بنوں نائٹ‘‘ میں ایوارڈ کے حوالے سے اپنے خطاب میں انہوں نے جس انداز سے اپنی سادگی کا ذکر کیا، وہ ان کی شخصیت کا آئینہ دار ہے۔ بنوں کی چادر، بنوں کے جوتے اور ایک بڑے اعزاز کے موقع پر بھی اپنی مٹی سے جڑے رہنے کا یہ انداز بتاتا ہے کہ غازی سیالؔ نے شہرت حاصل کی، مگر شہرت کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔ یہی وصف کسی فنکار کو بڑا بناتا ہے۔ وہ شخص بڑا نہیں ہوتا جس کے گرد لوگ جمع ہوں؛ بڑا وہ ہوتا ہے جس کے دل میں لوگوں کے لیے جگہ ہو۔
غازی سیالؔ کو یاد کرنا دراصل بنوں کے ایک پورے ثقافتی عہد کو یاد کرنا ہے۔ وہ عہد جب حجرہ صرف بیٹھک نہیں بلکہ علم و ادب کا مرکز ہوتا تھا۔ جب شاعر اپنے لوگوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا تھا۔ جب گیت صرف گایا نہیں جاتا تھا بلکہ جیا جاتا تھا۔ جب لفظوں میں مٹی کی خوشبو اور آواز میں دل کی دھڑکن محسوس ہوتی تھی۔ غازی سیالؔ اسی روایت کے امین تھے۔
وہ بنوں کے شاعر تھے، مگر ان کا موضوع صرف بنوں نہیں تھا۔ وہ پشتون معاشرے کے شاعر تھے۔ ان کے ہاں محبت بھی ہے، ثقافت بھی، انسان بھی، مٹی بھی، دکھ بھی اور امید بھی۔ اسی لیے ان کا انتقال صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں تھا؛ یہ ایک ادبی روایت کے لیے ایک بڑا نقصان تھا۔
27 نومبر 2019ء میں غازی سیالؔ کا جسمانی سفر اختتام پذیر ہوا، مگر ان کا ادبی سفر ختم نہیں ہوا۔ کتابیں ان کی آواز سناتی ہیں، گیت ان کے الفاظ دہراتے ہیں، تحقیق ان کے علمی قد کا پتہ دیتی ہے اور بنوں کی مٹی آج بھی شاید اپنے اس فرزند کو یاد کرتی ہے جس نے اس مٹی کے لہجے کو ادب کی زبان عطا کی۔
بعض لوگ اپنی زندگی میں ایک زمانے کی نمائندگی کرتے ہیں اور مرنے کے بعد ایک روایت بن جاتے ہیں۔ غازی سیالؔ بھی اب ایک شخصیت سے بڑھ کر ایک ادبی روایت ہیں۔ ان کے بارے میں لکھتے ہوئے قلم رک رک جاتا ہے، کیونکہ کچھ شخصیات کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے شاید یہی کہا جا سکتا ہے: جسم مٹی میں اتر جاتا ہے، مگر فن وقت کی مٹی میں دفن نہیں ہوتا۔
غازی سیالؔ کی آواز شاید خاموش ہو گئی ہو، مگر ان کے گیت اب بھی گونجتے ہیں۔ ان کی آنکھیں شاید ہمیشہ کے لیے بند ہو گئی ہوں، مگر ان کے لفظ اب بھی ہماری آنکھوں کے سامنے بنوں، پشتون معاشرے اور انسانی زندگی کے کتنے ہی منظر روشن کرتے ہیں۔ اور یہی کسی شاعر کی سب سے بڑی فتح ہے کہ اس کی موت اس کے فن کی موت نہ بن سکے۔
غازی سیالؔ آج ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کا قلم زندہ ہے، ان کے گیت زندہ ہیں، ان کی کتابیں زندہ ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کی مٹی سے محبت زندہ ہے۔
اللہ تعالیٰ غازی سیالؔ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پشتو ادب کو ان جیسے درویش صفت، باصلاحیت اور صاحبِ نظر اہلِ قلم کی یاد ہمیشہ زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بنوں کی سرزمین کا یہ درخشندہ ستارہ افق سے اوجھل ضرور ہوا ہے، مگر اس کی روشنی ابھی باقی ہے۔