اصلاحِ نظام
تحریر: سید نذیر شاہ
پاکستان کا استحکام محض نعروں، عارضی معاشی پیکجز یا بیرونی امداد کا محتاج نہیں بلکہ اس کی حقیقی بنیاد مضبوط اداروں، بہتر حکمرانی اور قانون کی بالادستی پر قائم ہوتی ہے۔ مقتدر حلقوں کی سوچ اب بظاہر اس حقیقت کی طرف مڑ رہی ہے کہ بین الاقوامی اور سفارتی محاذ پر کامیابیوں کے بعد اب اصل اور سب سے بڑا امتحان داخلی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ کسی بھی ملک کی اصل طاقت صرف اس کی سفارتی کامیابیوں میں نہیں ہوتی بلکہ اس کے مضبوط اداروں، مستحکم معیشت، بہتر انتظامی نظام اور عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے، مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ فرسودہ نظام اور سست سرکاری مشینری آج بھی عوامی مسائل کے حل میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے، اور اندرونی کمزوریوں کی یہ کیفیت ہمارے بین الاقوامی کردار کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
آج پاکستان جن سیاسی، معاشی اور انتظامی مشکلات میں گھرا ہوا ہے، ان کی ذمہ داری کسی ایک حکومت یا شخصیت پر ڈال دینا مسئلے کو حد سے زیادہ آسان بنا دینے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مسائل کی جڑیں اس نظام میں ہیں جو کئی دہائیوں سے روایتی انداز میں چل رہا ہے، جہاں ایک طرف سیاسی تنازعات جاری رہتے ہیں اور دوسری طرف بین الاقوامی ادارے گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کا تقاضا کرتے ہیں۔ حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ صرف چہرے بدلنے یا نئے قرضے لینے سے پاکستان کی تقدیر نہیں بدل سکتی جب تک کہ ریاستی نظام کو اس انداز میں نہ چلایا جائے جہاں ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں۔ اصل استحکام اسی دن آئے گا جب سرکاری عہدہ طاقت کی علامت بننے کے بجائے عوام کی امانت بنے گا اور قومی خزانہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کا حق سمجھا جائے گا۔
پاکستان کا بنیادی مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس دریا، زرخیز زمینیں، معدنی وسائل اور دنیا کے اہم ترین خطے میں موجود جغرافیائی حیثیت موجود ہے، لیکن اس کے باوجود معیشت بار بار بحران کا شکار ہوتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ کمزور حکمرانی، فیصلوں میں شفافیت کی کمی اور اداروں کی ناقص نگرانی ہے، جس کا براہِ راست نقصان کاروبار اور عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اصلاحاتی ایجنڈے اسی بنیادی بیماری کا علاج تلاش کرنے کی کوشش ہیں لیکن پاکستان کا تاریخی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اصلاحاتی منصوبوں کی کبھی کمی نہیں رہی، کمی ہمیشہ اس بات کی رہی ہے کہ جو اصلاحات کاغذ پر لکھی گئیں وہ عملی زندگی میں کتنی نافذ ہوئیں۔ سرکاری دفتر میں پڑی ہوئی ایک فائل صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ کسی تاجر کا کاروبار، کسی خاندان کی آمدنی اور کسی نوجوان کا مستقبل جڑا ہوتا ہے، اور جب ایک جائز کام مہینوں تک رک جائے تو اس کا نقصان پوری معیشت کو اٹھانا پڑتا ہے۔
بدعنوانی کو ہم اکثر صرف رشوت لینے اور دینے تک محدود سمجھتے ہیں، حالانکہ پیچیدہ قوانین، غیر ضروری کاغذی کارروائی اور سرکاری اہلکاروں کو حاصل بے جا صوابدید بھی بدعنوانی کے تمام راستے کھولتی ہے۔ جہاں ایک معمولی کام کے لیے شہری کو کئی دفاتر کے چکر کاٹنے پڑیں، وہاں غیر قانونی راستے تلاش کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اسی لیے ڈیجیٹل گورننس اور ڈیجیٹل کرنسی اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ سرکاری خدمات آن لائن فراہم کی جائیں، درخواست، منظوری اور ادائیگی کا عمل ڈیجیٹل ہو اور ہر مرحلے کا ریکارڈ موجود ہو تو شہری اور افسر کے براہِ راست رابطے میں کمی لاکر بدعنوانی کے مواقع کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
جب اندرونی نظام کی نااہلی اور غفلت حد سے بڑھ جائے تو اس کے نتائج صرف بدانتظامی، تاخیر یا سہولتوں کی کمی تک محدود نہیں رہتے بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع تک جا پہنچتے ہیں، اور سرکاری ہسپتالوں میں کمزور سکیورٹی اور ناقص انتظامی نگرانی اس کی سنگین مثال ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں زچگی اور نومولود بچوں کے وارڈز میں جدید الیکٹرانک ٹریکنگ، محدود رسائی اور مسلسل نگرانی کے ذریعے بچوں کی حفاظت یقینی بنائی جاتی ہے، جبکہ ہمارے کئی سرکاری ہسپتال آج بھی فرسودہ انتظامات کے ساتھ چل رہے ہیں۔ اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ جن اداروں کا بنیادی مقصد انسانی جانیں بچانا ہے، اگر وہ خود حفاظتی غفلت کا شکار ہو جائیں تو پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت جیسے دلخراش واقعات رونما ہوتے ہیں۔
یہ تمام حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کرپشن، ایلیٹ کیپچر اور انتظامی غفلت محض کاغذی اعداد و شمار یا رپورٹس کا مسئلہ نہیں بلکہ عام پاکستانی کی روزمرہ زندگی کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔ اس کا بوجھ کبھی مہنگائی کی صورت میں عوام پر پڑتا ہے، کبھی سرکاری ہسپتال میں غفلت کی شکل میں سامنے آتا ہے، کبھی عدالت میں برسوں انصاف کے انتظار اور کبھی ایک جائز کام کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی اور معاشی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، کسی بھی سیاسی رہنما کے مقدمات کا فیصلہ سیاسی پسند یا ناپسند کے بجائے قانون اور عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے، اور اصل ضرورت ایسے سیاسی نظام کی ہے جس میں آج کے فیصلے کل کے سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار نہ بنیں۔ اگر قانون اور اداروں کے اصول سب کے لیے یکساں ہوں گے تو سیاسی نظام میں بھی استحکام پیدا ہوگا۔
نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی بحث کو بھی اسی بنیادی ضرورت کے ساتھ جوڑنا چاہیے کیونکہ اگر وہی پرانی بیوروکریسی سست روی اور مداخلت برقرار رہے تو محض نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے گورننس بہتر نہیں ہو سکتی کیونکہ جب تک اندر کا گھر صاف نہیں کیا جاتا، اداروں کو ذاتی اور سیاسی مفادات سے نکال کر عوامی خدمت کا حقیقی ذریعہ نہیں بنایا جاتا اور ہر اختیار کے ساتھ جواب دہی یقینی نہیں بنائی جاتی، نہ معیشت پائیدار بنیادوں پر سنبھل سکتی ہے اور نہ عام شہری کو وہ باعزت زندگی مل سکتی ہے جس کا وہ حق رکھتا ہے۔ معیشت کا معاملہ اس بحث سے الگ نہیں کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان بار بار IMF کے پاس جانے اور دوست ممالک سے قرض اور امداد لینے پر انحصار کرتا آیا ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین جیسے ممالک نے وقتاً فوقتاً پاکستان کے مرکزی بینک میں رقوم رکھوا کر اور قرضوں کی مدت بڑھا کر مشکل وقت میں سہارا دیا ہے مگر یہ سہارا مستقل حل نہیں بن سکتا جب تک ٹیکس نظام میں سب کو برابر لایا نہیں جاتا، سرکاری شعبے کا خسارہ ختم نہیں ہوتا اور سرکاری اداروں کو نجی شعبے جیسی کارکردگی پر نہیں لایا جاتا۔ معیشت ہر چند سال بعد اسی بحران کی طرف لوٹ آئے گی چاہے انتظامی نقشہ کتنا ہی بدل دیا جائے۔ پاکستان کو اب بحران سے بحران تک سفر کرنے کے بجائے اپنے نظام کی بنیادی اصلاح کرنا ہوگی کیونکہ اصل تبدیلی حکومت بدلنے سے نہیں بلکہ نظام کے کام کرنے کے طریقے کو بدلنے سے آئے گی۔ ہمارے دوست ممالک ہماری بھرپور مدد کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اصل فیصلہ اور عملی اقدام ہمیں خود کرنا ہوگا اور یہی پاکستان کے مستقبل کا سب سے بڑا امتحان ہے۔