اسلام آباد/تہران (کیو این این ورلڈ): ایران اور امریکا کے درمیان دیرپا جنگ بندی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ اسی سلسلے میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پیر کو ایران کے دارالحکومت تہران کا دورہ کریں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کی کوششوں کا تسلسل ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔ دورے کے دوران پاکستانی چیف آف ڈیفنس فورسز ایران کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں علاقائی صورتحال، امن و سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ اسی وسیع تر سفارتی کوشش کا حصہ ہے۔ پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے دیرپا حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور امن، استحکام و سلامتی کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران کے دوران پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور جاری کشیدگی سمیت مختلف اہم معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا بھی دورے کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔
واضح رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر رواں سال ایران کے متعدد اہم دورے کرچکے ہیں، جن میں ایران امریکا کشیدگی کے دوران مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں بھی شامل رہی ہیں۔ مئی 2026 میں ان کے دورۂ ایران کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئی تھیں، جن میں خطے میں امن و استحکام اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی تھی۔
حالیہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے صورتحال کو معمول پر لانے کی کوششوں میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔