رضا علی عابدی: آواز میں بسا ایک عہد
تحریر: منور شاہ منور
کچھ آوازیں کانوں سے گزر کر خاموش نہیں ہوتیں؛ وہ دل میں اترتی ہیں، وہاں ٹھہرتی ہیں، اور پھر ایک دن اچانک کسی پرانی یاد کی طرح لوٹ آتی ہیں۔ کچھ لوگ کتابیں نہیں لکھتے، وقت کو لفظوں میں محفوظ کرتے ہیں۔ کچھ مسافر راستوں پر نہیں چلتے، گزرے ہوئے زمانوں کی روح کے پیچھے چلتے ہیں۔ رضا علی عابدی بھی انہی نایاب لوگوں میں سے ایک ہیں۔
وہ صحافی تھے، مصنف تھے، محقق تھے، سفرنامہ نگار تھے، براڈکاسٹر تھے—مگر ان سب حوالوں کے اوپر ایک اور حوالہ ہے، جو شاید ان کی پوری شخصیت کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے: وہ ایک بے مثال داستان گو تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ ان کے پاس داستان سنانے کے لیے کبھی قلم ہوتا تھا، کبھی مائیکروفون، کبھی کسی پرانی کتاب کا بوسیدہ ورق، اور کبھی صدیوں سے خاموش پڑی کوئی سڑک۔
30 نومبر 1936ء کو روڑکی، ضلع ہریدوار، ہندوستان میں پیدا ہونے والے رضا علی عابدی نے ایک ایسے عہد میں آنکھ کھولی جب برصغیر اپنی تاریخ کے سب سے بڑے اضطراب سے گزر رہا تھا۔ تقسیم کا شور، ہجرت کی کسک، بچھڑتے گھر، اجنبی راستے اور ایک نئے وطن کی تعمیر—یہ سب ان کے بچپن کی یادوں میں کہیں نہ کہیں محفوظ ہوگیا۔ شاید اسی لیے بعد کی زندگی میں وہ جب بھی کسی پرانے راستے، شہر، کتاب یا دریا کی طرف گئے، تو محض ایک جگہ دیکھنے نہیں گئے؛ وہ اپنے ہی ماضی کی کسی گم شدہ آواز کو ڈھونڈنے گئے۔
تیرہ برس کی عمر میں اخبارات پڑھنے کا جو شوق ان کے اندر جاگا، وہ بظاہر ایک معمولی سا شوق تھا، مگر شاید وہیں سے ایک پوری داستان کا پہلا جملہ لکھا جا چکا تھا۔ اخبار ان کے لیے کاغذ پر چھپی ہوئی خبریں نہیں تھا؛ وہ دنیا کی طرف کھلنے والی ایک کھڑکی تھا۔ وہ خبریں پڑھتے گئے، زمانہ سمجھتے گئے، لفظوں سے رشتہ مضبوط کرتے گئے، یہاں تک کہ ایک دن وہ خود ان لفظوں کی دنیا کا حصہ بن گئے۔
بائیں ہاتھ سے انگریزی خبر کا اردو ترجمہ کرنے والے اس نوجوان نے صحافت کو صرف روزگار نہیں بنایا؛ اسے اپنے عہد کو سمجھنے اور محفوظ کرنے کا وسیلہ بنا لیا۔
1965ء کی جنگ کے زمانے میں صحافت کا میدان اختیار کرنا، روزنامہ حریت سے وابستگی، پھر انگلستان کا سفر، اور بالآخر 1972ء میں بی بی سی سے وابستہ ہونا—یہ سب ان کی زندگی کے اہم سنگِ میل تھے۔ لیکن اصل سفر شاید اسی وقت شروع ہوا جب ان کی آواز ریڈیو کے ذریعے ان گھروں تک پہنچنے لگی جہاں ہزاروں میل دور بیٹھے لوگ اپنے وطن، اپنی زبان اور اپنے ماضی سے رشتہ جوڑنے کے لیے ریڈیو کے گرد بیٹھتے تھے۔
ان کی آواز میں ایک ایسی مٹھاس تھی جسے بیان کرنے کے لیے شاید لفظ بھی کم پڑ جائیں۔
نہ خطابت کا شور، نہ لہجے میں تصنع، نہ الفاظ پر غیر ضروری زور۔
بس ایک ٹھہرا ہوا، شائستہ اور مانوس لہجہ،جیسے کوئی بہت پڑھا لکھا، بہت کچھ دیکھ چکا اور بہت کچھ سہہ چکا شخص آپ کے برابر آ بیٹھے اور دھیرے سے کہے:
آئیے، آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں۔
اور پھر قصہ شروع ہوجاتا۔
کبھی گنگا کے کنارے سے، کبھی جرنیلی سڑک کی گرد سے، کبھی ریل کے کسی پرانے ڈبے سے، کبھی کسی کتب خانے کی خاموش الماری سے، اور کبھی برصغیر کی ان گلیوں سے جہاں وقت گزر تو گیا ہے، مگر اس کے قدموں کی چاپ اب بھی سنائی دیتی ہے۔
رضا علی عابدی کا کمال یہی تھا کہ وہ چیزوں کو صرف دیکھتے نہیں تھے، ان کے اندر چھپی ہوئی کہانی کو محسوس کرتے تھے۔
ایک سڑک ان کے سامنے آتی تو وہ محض سڑک نہ رہتی؛ اس پر صدیوں کے قافلے چلنے لگتے۔
ایک دریا دکھائی دیتا تو پانی کے ساتھ تہذیبیں بہتی محسوس ہوتیں۔
ایک ریل گاڑی گزرتی تو اس کے پہیوں کی آواز میں شہروں، بچھڑنے والوں، ملنے والوں اور ہجرت کرنے والوں کی صدائیں سنائی دینے لگتیں۔
ان کے سفرناموں میں راستے محض راستے نہیں رہتے، کردار بن جاتے ہیں۔ دریا محض پانی نہیں رہتا، حافظہ بن جاتا ہے۔ اور ریل محض لوہے کی پٹریوں پر دوڑتی ہوئی مشین نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسا چلتا پھرتا افسانہ بن جاتی ہے جس میں پورا برصغیر اپنے دکھ، خوشی، محبت، جدائی اور تاریخ کے ساتھ سفر کر رہا ہوتا ہے۔
"جرنیلی سڑک” میں ایک راستہ صدیوں کا قصہ بن جاتا ہے۔
"شیر دریا” میں دریا تہذیبوں کا امین دکھائی دیتا ہے۔
"ریل کہانی” میں ریل گاڑی صرف منزل تک پہنچانے والی سواری نہیں رہتی؛ وہ انسانی زندگی کا استعارہ بن جاتی ہے—کچھ لوگ چڑھتے ہیں، کچھ اتر جاتے ہیں، کچھ راستے میں بچھڑ جاتے ہیں، کچھ کسی اگلے اسٹیشن پر مل جاتے ہیں، مگر سفر چلتا رہتا ہے۔
یہی تو رضا علی عابدی کی نگاہ تھی: وہ معمولی میں غیر معمولی دیکھ لیتے تھے۔
ایک پرانا دروازہ انہیں پوری بستی کی کہانی سنا دیتا تھا۔
ایک بوسیدہ کتاب انہیں کئی نسلوں کی آوازیں سنوا دیتی تھی۔
ایک راستہ انہیں تاریخ کے قدموں تک لے جاتا تھا۔
اور ایک خاموش دریا ان کے لیے صدیوں کی گفتگو بن جاتا تھا۔
کتابوں سے ان کی محبت تو اپنی جگہ ایک الگ داستان ہے۔ پرانی کتابوں کی تلاش، کتب خانوں کی خاک چھاننا، فراموش شدہ صفحات کو دوبارہ زندگی دینا—یہ سب ان کے نزدیک محض تحقیق نہیں تھی؛ یہ تہذیب کی حفاظت تھی۔
انہیں شاید اس بات کا گہرا احساس تھا کہ قومیں صرف عمارتوں سے نہیں بنتیں، اپنی یادداشت سے بنتی ہیں۔ اور جس قوم کی کتابیں، دستاویزات اور پرانی آوازیں مٹنے لگیں، اس کی اجتماعی یادداشت بھی آہستہ آہستہ دھندلا جاتی ہے۔
اسی لیے "کتابیں اپنے آباء کی” جیسی کاوشیں صرف کتابوں کے بارے میں کتابیں نہیں؛ یہ دراصل ایک قوم کی گم ہوتی ہوئی یادداشت کو آواز دینے کی کوشش ہیں۔
اور رضا علی عابدی کی خوب صورتی یہ تھی کہ وہ ماضی کو میوزیم کی کسی شیشے کی الماری میں بند نہیں کرتے تھے۔ وہ اسے ہمارے سامنے زندہ کردیتے تھے۔
وہ کہتے نہیں تھے کہ تاریخ پڑھو۔
وہ یوں محسوس کراتے تھے جیسے تاریخ خود آپ کے پاس آکر بیٹھ گئی ہو۔
ان کی تحریروں میں یہی جادو ہے۔
وہ لیکچر نہیں دیتے، سفر کراتے ہیں۔
وہ تاریخ نہیں سناتے، منظر دکھاتے ہیں۔
وہ کتاب کا تعارف نہیں کراتے، اس کے اندر چھپی ہوئی دنیا کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔
اور پھر قاری کو یوں لگتا ہے جیسے وہ کسی پرانی گلی میں کھڑا ہے، سامنے ایک نیم کھلا دروازہ ہے، اندر سے وقت کی مدھم روشنی آرہی ہے، اور کوئی آہستہ سے کہہ رہا ہے:
دیکھیے… یہاں کبھی ایک زمانہ رہا کرتا تھا۔
اور ہم واقعی دیکھنے لگتے ہیں۔
رضا علی عابدی کی شخصیت کا ایک اور دل کش پہلو ان کی بچوں سے محبت ہے۔ "پہلا تارا”، "پہلی کرن”، "چمپکا”، "میری امی”، "پیاری ماں”، "الٹا گھوڑا” اور دوسری تحریریں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ جانتے تھے کہ ادب صرف بڑے فلسفوں، عظیم واقعات اور بھاری بھرکم موضوعات کا نام نہیں۔ کبھی ایک بچے کی آنکھ میں چمکتا ہوا خواب بھی پوری کائنات سے زیادہ خوب صورت کہانی بن سکتا ہے۔
1996ء میں بی بی سی سے ریٹائرمنٹ ہوئی تو ایک ملازمت ختم ہوئی، مگر ایک آواز کیسے ریٹائر ہوسکتی تھی؟
ریڈیو کا مائیک پیچھے رہ گیا، مگر داستان گو آگے چلتا رہا۔
آواز کتابوں میں اتر گئی۔
کتابیں یادوں میں اتر گئیں۔
اور یادیں نسلوں تک پہنچ گئیں۔
شاید یہی کسی تخلیق کار کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ اپنی موجودگی ختم ہونے کے بعد بھی لوگوں کی زندگی میں موجود رہے۔
رضا علی عابدی کے لیے ریڈیو محض ایک ادارہ نہیں تھا؛ وہ ایک رشتہ تھا۔
کتاب محض کاغذ نہیں تھی؛ ایک زندہ وجود تھی۔
سفر محض تفریح نہیں تھا؛ دریافت تھا۔
اور صحافت محض خبر نہیں تھی؛ اپنے عہد کی گواہی تھی۔
اسی لیے انہیں صرف صحافی کہنا ان کی شخصیت کو ایک محدود خانے میں رکھ دینا ہے۔ وہ دراصل اردو کے ایسے داستان گو تھے جنہیں مائیکروفون مل گیا تھا۔ انہوں نے آواز کو قلم کی طرح برتا اور قلم کو آواز کی طرح۔
ان کے ہاں تحقیق ہے مگر خشکی نہیں۔
تاریخ ہے مگر بوجھ نہیں۔
شگفتگی ہے مگر بناوٹ نہیں۔
درد ہے مگر شور نہیں۔
اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی انسانی گرمجوشی ہے جو قاری کو اجنبی نہیں رہنے دیتی۔
ان کی تحریر پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کہیں بہت دور نہیں بیٹھا؛ وہ ہمارے ساتھ چل رہا ہے۔ کبھی آگے بڑھ کر کسی پرانی عمارت کی طرف اشارہ کرتا ہے، کبھی راستے میں رک جاتا ہے، کبھی کسی اجنبی شخص سے بات کرتا ہے، کبھی کسی کتاب کا ورق پلٹتا ہے، اور پھر اچانک ہماری طرف دیکھ کر مسکرا دیتا ہے۔
یہی تو اصل داستان گوئی ہے۔
لفظوں کو زندہ کردینا۔
رضا علی عابدی نے وقت کو روکنے کا ہنر جان لیا تھا۔
ہم جن چیزوں کو دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، انہوں نے انہیں ٹھہر کر دیکھا۔
ہم جن آوازوں کو سن کر بھول جاتے ہیں، انہوں نے انہیں محفوظ کرلیا۔
ہم جن راستوں سے گزر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں، انہوں نے انہی راستوں کی کہانی لکھ دی۔
ایک شہر، ایک دریا، ایک ریل، ایک کتاب، ایک آدمی، ایک آواز—ان کے ہاں کچھ بھی محض "کچھ” نہیں رہتا؛ ہر چیز یادداشت کا حصہ بن جاتی ہے۔
اور شاید اسی لیے رضا علی عابدی کو پڑھنا یا سننا دراصل ماضی میں واپس جانا نہیں، اپنی ہی یادداشت سے ملاقات کرنا ہے۔
وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ وقت گزرتا ضرور ہے، مگر سب کچھ اپنے ساتھ نہیں لے جاتا۔
کچھ چیزیں لفظوں میں رہ جاتی ہیں۔
کچھ آوازیں یادوں میں۔
کچھ سفر کتابوں میں۔
اور کچھ لوگ اپنی ذات سے آگے نکل کر ایک پوری نسل کی یاد بن جاتے ہیں۔
رضا علی عابدی بھی ایسی ہی ایک یاد ہیں۔
ایسی یاد جسے مٹایا نہیں جاسکتا، کیونکہ وہ کسی ایک کتاب میں نہیں، بے شمار دلوں میں لکھی ہوئی ہے۔
آج اگر کسی پرانی کتاب کا ورق پلٹتے ہوئے اچانک ماضی کی خوشبو محسوس ہو، اگر کسی اجنبی سڑک پر چلتے ہوئے لگے کہ اس راستے پر کبھی کوئی داستان گزری تھی، اگر ریڈیو کی کوئی پرانی ریکارڈنگ سن کر دل یکایک ٹھہر جائے، تو شاید یہ محض اتفاق نہ ہو۔
شاید کہیں دور سے وہی مانوس آواز آرہی ہو:
"سنیے… ایک داستان ہے۔”
اور ہم، آج بھی، سب کام چھوڑ کر رک جائیں۔
کیونکہ کچھ آوازیں وقت کے ساتھ خاموش نہیں ہوتیں۔
وہ وقت سے آگے نکل جاتی ہیں۔
نسلوں کے درمیان پل بن جاتی ہیں۔
یادداشت کی تہہ میں چراغ کی طرح جلتی رہتی ہیں۔
رضا علی عابدی بھی ایسی ہی ایک آواز ہیں
اردو کی آواز،
کتابوں کی آواز،
سفر کی آواز،
یادوں کی آواز،
اور اس خوب صورت زمانے کی آواز
جسے انہوں نے لفظوں میں اس طرح محفوظ کیا
کہ وقت بھی اسے مٹا نہ سکا۔
وہ گئے نہیں۔
وہ اپنے لفظوں میں موجود ہیں۔
اور جب تک اردو کا کوئی قاری کسی پرانی کتاب کا ورق پلٹتا رہے گا، جب تک کوئی مسافر کسی اجنبی راستے میں ماضی کی چاپ سنتا رہے گا، جب تک ریڈیو کی کسی پرانی لہریں کسی دل کو چھوتی رہیں گی
رضا علی عابدی کی داستان جاری رہے گی۔
کیونکہ بڑے داستان گو کبھی ختم نہیں ہوتے؛
وہ اپنی کہانی سنانے کے بعد
سننے والوں کی یاد میں زندہ رہتے ہیں۔