نیویارک (کیو این این ورلڈ) امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُوکر نے کہا ہے کہ دنیا کو جنگ اور بموں کے بجائے سفارتکاری اور مکالمے کی ضرورت ہے، ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو خلیج پیدا کرنے کے بجائے لوگوں اور ملکوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں، اور پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
سینیٹر کوری بُوکر نے یہ بات پاکستان کے یومِ آزادی کی مناسبت سے نیویارک میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو بموں کی نہیں بلکہ سفارتکاری کی ضرورت ہے، جنگ کے بجائے ڈائیلاگ ہونا چاہیے اور دنیا کو ایسے قائدین کی ضرورت ہے جو اختلافات اور فاصلے کم کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔
انہوں نے انسانی حقوق اور خطے میں جاری تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے، اس لیے امریکی، فلسطینی اور ایرانی بچوں سمیت ہر انسان کی توقیر ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انسانی المیہ جنم لے رہا ہو تو کسی کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کمیونٹی کو یقین دلایا کہ وہ فلسطین اور ایران سمیت مختلف ممالک میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے سینیٹر کوری بُوکر نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کی دوستی قیامِ پاکستان کے روز ہی سے شروع ہوگئی تھی۔ دونوں ممالک کے حکومتی اور تجارتی تعلقات میں اتار چڑھاؤ ضرور آیا، تاہم امریکا اور پاکستان کے عوام کے درمیان دوستی کا رشتہ ہمیشہ مضبوط رہا ہے۔
انہوں نے امریکا میں پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ طب، انجینئرنگ، عوامی خدمت اور کاروبار سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں امریکن پاکستانی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور امریکا کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
سینیٹر کوری بُوکر نے کہا کہ اے پی پیک کی کوشش رہی ہے کہ مختلف طبقات کے درمیان خلیج کو کم کیا جائے اور پاکستانی امریکنز کو مقامی سطح پر ان کا جائز مقام اور مؤثر نمائندگی حاصل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکن پاکستانیوں کی طاقت دراصل امریکا کی طاقت ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پاکستانی امریکن کمیونٹی کی مضبوط اور مؤثر آواز ہو۔
مذہبی اقلیتوں اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سینیٹر کوری بُوکر نے کہا کہ اگر امریکا میں کسی مسلمان کو تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ کسی ایک فرد یا کمیونٹی کا نہیں بلکہ خود امریکا کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی سوچ کے تحت انہوں نے مسلمانوں سے نفرت اور اسلاموفوبیا کے خلاف قانون سازی کے لیے بل بھی پیش کیا تھا۔
تقریب سے اے پیک کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنایا جائے، دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے اور امریکا میں پاکستانی کمیونٹی کو مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے سینیٹر کوری بُوکر نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر اعجاز احمد نے امریکا کے پہلے وفاقی مسلم جج زاہد قریشی کی تقرری میں اہم کردار ادا کرنے پر سینیٹر کوری بُوکر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے پیک نے زاہد قریشی کی میرٹ پر تقرری کی بھرپور وکالت کی تھی اور سینیٹر کوری بُوکر نے ان کی تقرری میں کردار ادا کرکے امریکی مسلمانوں کو یہ واضح پیغام دیا کہ کسی شخص کا نام، مذہب یا پس منظر اہم عہدہ حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی کی جانب سے منعقدہ تقریب میں ریاست نیویارک کے اہم عہدیداروں، پاکستانی امریکن کمیونٹی کے رہنماؤں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔