اوچ شریف: آئس کی مبینہ سپلائی پر سوالات، شہریوں نے کارروائی کا مطالبہ کردیا

اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار حبیب خان): اوچ شریف میں آئس سمیت دیگر خطرناک منشیات کی مبینہ خرید و فروخت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کردی ہے۔ شہر اور گردونواح میں مبینہ طور پر آئس کی دستیابی اور خرید و فروخت کے دعووں کے باعث انسدادِ منشیات کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کا فوری اور مؤثر نوٹس نہ لیا گیا تو منشیات کا پھیلاؤ بالخصوص نوجوان نسل کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مبینہ منشیات کے کاروبار میں مردوں کے ساتھ خواتین کے استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ موضع ککس میں کالا گائمن نامی شخص مبینہ منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ہے، تاہم اس کی گرفتاری کے بعد اس کی اہلیہ کی جانب سے مبینہ طور پر اسی کاروبار کو جاری رکھنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب اوچ شریف شہر میں فاروق نامی درزی کے آئس کی مبینہ خرید و فروخت میں ملوث ہونے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔ تاہم ان تمام الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی اور متعلقہ افراد کا مؤقف بھی تاحال سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مبینہ منشیات فروشی سے متعلق بعض ویڈیوز اور تصاویر بھی سامنے آئی ہیں، جن میں ایک خاتون سمیت بعض افراد کو مشکوک نوعیت کے پیکٹس اور اشیا کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مواد تحقیقات کے دوران درست ثابت ہوتا ہے تو معاملہ صرف چند مبینہ فروخت کنندگان تک محدود نہیں ہوگا بلکہ یہ منشیات کی سپلائی، ترسیل اور تقسیم کے کسی وسیع تر نیٹ ورک کی موجودگی کی نشاندہی بھی کرسکتا ہے، جس کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

شہری حلقوں نے متعلقہ حکام سے سوال کیا ہے کہ آئس مبینہ طور پر اوچ شریف تک کہاں سے پہنچ رہی ہے، اس کی سپلائی کون کررہا ہے اور بڑے ڈیلروں اور سہولت کاروں تک قانون کی گرفت کیوں نہیں پہنچ رہی؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائی صرف چھوٹے مبینہ فروخت کنندگان تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان عناصر تک پہنچنا ضروری ہے جو مبینہ طور پر سپلائی، ترسیل اور تقسیم کا پورا نظام چلا رہے ہیں۔

شہریوں کے مطابق اوچ شریف اپنی تاریخی اور روحانی شناخت کے باعث ملک بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے، ایسے شہر میں آئس جیسے خطرناک نشے کی مبینہ خرید و فروخت کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان نوجوان نسل کے مستقبل کو براہِ راست متاثر کرسکتا ہے، اس لیے معاملے کو محض معمول کی کارروائی سمجھنے کے بجائے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

شہریوں نے ڈی پی او بہاولپور، ڈی ایس پی احمدپور شرقیہ اور ایس ایچ او تھانہ اوچ شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ سامنے آنے والی ویڈیوز، تصاویر اور دیگر اطلاعات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف، غیر جانب دارانہ اور مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ الزامات درست ثابت ہونے کی صورت میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور مبینہ منشیات سپلائی چین کے اصل کرداروں، ڈیلروں اور سہولت کاروں تک پہنچا جائے۔

شہری حلقوں نے واضح کیا کہ اوچ شریف کو منشیات کے مبینہ مرکز میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے رسمی کارروائیوں کے بجائے مؤثر، فیصلہ کن اور نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ خطرناک منشیات کی روک تھام کے ساتھ نوجوان نسل کو بھی اس لعنت سے محفوظ رکھا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے