میہڑ: ریاض خاصخیلی کی مبینہ گمشدگی پر ورثاء کا احتجاج، انڈس ہائی وے ٹریفک کے لیے بند

میہڑ(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار منظور علی جوئیہ) فریدآباد شہر سے اپنے ہی ہوٹل سے مبینہ طور پر اغوا ہو کر لاپتہ ہونے والے نوجوان ریاض خاصخیلی کی بازیابی کے لیے اس کے ورثاء نے میہڑ انڈس ہائی وے پر اٹک پمپ کے قریب دھرنا دے دیا۔ احتجاج کے باعث کراچی، حیدرآباد، نصیرآباد، لاڑکانہ اور سکھر سمیت مختلف شہروں کو جانے والی ٹریفک کئی گھنٹوں تک متاثر رہی۔ دھرنے میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے، جبکہ مغوی نوجوان کی بیوی صنع خاصخیلی، بہن مومل، بیٹے بلاول خاصخیلی اور دیگر اہل خانہ نے احتجاج کی قیادت کی۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ روز ریاض خاصخیلی اپنے ہوٹل پر بیٹھا ہوا تھا کہ پولیس موبائل میں سوار اہلکاروں اور نامعلوم ویگو گاڑی میں آنے والے افراد نے اسے مبینہ طور پر اپنے ساتھ لے گئے۔ ورثاء کے مطابق انہوں نے فریدآباد اور میہڑ پولیس سے رابطہ کرکے ریاض کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم کسی جانب سے بھی اس کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی۔

مغوی کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ریاض خاصخیلی کی طبیعت پہلے ہی ناساز ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ریاض کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے یا وہ کسی قانونی کارروائی کے تحت گرفتار کیا گیا ہے تو پولیس اس کی گرفتاری ظاہر کرے، تاہم اسے لاپتہ نہ رکھا جائے۔

مظاہرین نے حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ غریب خاندان کی فریاد کا فوری نوٹس لیں، ریاض خاصخیلی کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے اور اہل خانہ کی بے چینی ختم کی جائے۔

دھرنے کی اطلاع ملنے پر میہڑ بی سیکشن پولیس موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین سے مذاکرات کیے۔ پولیس کی جانب سے مغوی نوجوان کی بازیابی کے لیے اقدامات اور پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی، جس کے بعد ورثاء نے دھرنا ختم کردیا اور انڈس ہائی وے پر ٹریفک بحال ہوگئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے