طورخم بارڈر نہ کھلا تو اسلام آباد مارچ کا اعلان

پشاور (کیو این این ورلڈ/بیورورپورٹ): پاک افغان بارڈر کی تقریباً دس ماہ سے جاری بندش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین معاشی و سماجی صورتحال کے خلاف پشاور کے انڈسٹریل روڈ پر گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں کسٹم ایجنٹس، تاجر، ٹرانسپورٹرز، قبائلی مشران اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جرگے کے شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ روزگار اور تجارت کی بحالی کے لیے طورخم سمیت تمام اہم سرحدی گزرگاہیں فوری طور پر تجارت کے لیے کھولی جائیں، بصورت دیگر باجوڑ سے چمن تک مشترکہ احتجاجی تحریک شروع کرکے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کسٹم یونین کے صدر مجیب شینواری نے کہا کہ آئندہ اجتماعی احتجاج اسلام آباد میں کیا جائے گا اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ انہوں نے دیگر سرحدی گزرگاہوں سے وابستہ یونینز کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ بھی اس تحریک میں شریک ہوں اور سرحدی علاقوں کے تاجروں، مزدوروں اور قبائل کے معاشی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ آواز بلند کریں۔

نوجوانان قبائل کے اسرار شینواری نے کہا کہ بارڈر بندش سے سب سے زیادہ متاثر سرحدی علاقوں کے قبائل ہوئے ہیں اور ان کے معاشی مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ تنظیموں کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ گرینڈ جرگہ افغان جرگے کے ساتھ مل کر منعقد کیا جائے اور سیاسی قیادت کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جاسکے۔

ملک عبداللہ وزیر نے کہا کہ بارڈر بند ہونے کے باعث لوگوں کے ذرائع آمدن ختم ہوگئے ہیں اور کئی خاندان بھیک اور قرض لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق بارڈر بندش قبائل کا معاشی قتل عام ہے، جس کے باعث خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں غربت اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاشی مشکلات میں اضافہ جرائم اور بدامنی کے مسائل کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت قبائلی علاقوں کے عوام کو محض تجارت اور روزگار کی بحالی کے لیے طورخم بارڈر کھولے۔

سید جواد کاظمی نے کہا کہ طورخم کے کسٹم ایجنٹس نے بارڈر کھولنے کی تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے اور قبائل اپنے روزگار کا حق مانگ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارڈر بندش سے کارخانہ دار، مزدور، تاجر اور ٹرانسپورٹرز سمیت معاشرے کے مختلف طبقات متاثر ہوئے ہیں۔ اگر حکومت بارڈر کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتی تو متاثرہ علاقوں کے لیے متبادل معاشی سرگرمیوں اور روزگار کا بندوبست کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے امن و امان اور افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کا خاتمہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ محفوظ ماحول ہی دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کے مؤقف میں مختلف اوقات میں تبدیلی آتی رہی ہے، اس لیے قبائلی مشران اور تاجر افغان تاجروں کے ساتھ براہ راست رابطہ کرکے مسائل کی اصل وجوہات جاننے کی کوشش کریں۔

زوان کوکی خیل اتحاد کے ثناء اللہ آفریدی نے کہا کہ بارڈر بندش سے لوگوں سے روزگار اور رزق کے ذرائع چھینے جارہے ہیں، جس کے نتیجے میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان کے مطابق قبائل نے اب تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات اور جرگے بھی کیے گئے، تاہم مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاشی محرومی سے جرائم اور انتہا پسندی کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، اس لیے بارڈر بند رکھنا مسئلے کا مستقل حل نہیں۔

آفتاب پشتین نے کہا کہ اگر ریاست طورخم بارڈر کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتی تو سرحدی علاقوں کے عوام کے لیے متبادل ذرائع روزگار فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کی ضمانت دینا عوام کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے متعلقہ ادارے موجود ہیں۔ ان کے بقول احتجاجی تحریک مختلف مراحل سے گزر چکی ہے اور اب فیصلہ کن لائحہ عمل اختیار کرنے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے باجوڑ سے چمن تک مشترکہ تحریک اور اسلام آباد مارچ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ افغان تاجروں کے نمائندہ وفد سے بھی ملاقات کرکے ان کا مؤقف معلوم کیا جانا چاہیے۔

ٹرانسپورٹر اقبال نے کہا کہ بارڈر بندش کے باعث ٹرانسپورٹرز اور مزدور طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے جبکہ بے روزگاری اور غربت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسئلے کا فوری حل نکالا جائے اور طورخم بارڈر سمیت دیگر سرحدی گزرگاہوں کو تجارت کے لیے کھولنے کے اقدامات کیے جائیں۔

گرینڈ جرگے کے شرکا نے متفقہ طور پر واضح کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا اور طورخم بارڈر سمیت سرحدی تجارت کی بحالی کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو تمام متعلقہ یونینز، تاجر، ٹرانسپورٹرز اور قبائلی تنظیمیں اپنے روابط مزید مضبوط کرکے مشترکہ احتجاجی تحریک چلائیں گی۔ شرکا کے مطابق تحریک کا اگلا مرحلہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج اور مارچ ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے