پشاور (کیو این این ورلڈ) پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے سینئر نائب صدر، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ڈرائی پورٹ و ریلوے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) نے کہا ہے کہ گزشتہ دس ماہ کے دوران پاک افغان دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ تجارت کی بندش کے باعث پاکستان اور افغانستان دونوں کو اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ لاکھوں افراد کا روزگار بھی متاثر ہوا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ضیاء الحق سرحدی نے کہا کہ افغانستان پاکستانی مصنوعات کے لیے قریب ترین اور اہم ترین منڈی ہے جہاں پاکستانی برآمد کنندگان کو آرڈر کی تصدیق کے ساتھ ہی مکمل پیشگی ادائیگی موصول ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی افغانستان کو سالانہ برآمدات تقریباً ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر ہیں، تاہم گزشتہ دس ماہ کے دوران تجارتی سرگرمیوں کی بندش کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی مصنوعات کی سالانہ برآمدات تقریباً 80 کروڑ امریکی ڈالر ہیں، لیکن ٹرانزٹ تجارت میں رکاوٹوں کے باعث گزشتہ دس ماہ میں پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً 22 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان وسطی ایشیائی ممالک سے کپاس، دالوں اور دیگر اشیائے ضروریہ درآمد کرتا ہے اور افغانستان کے راستے یہ تجارت کم لاگت پر ممکن تھی، مگر موجودہ صورتحال میں درآمدی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
ضیاء الحق سرحدی نے کہا کہ افغانستان اور وسطی ایشیا سے آنے والے درآمدی کارگو پر کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں پاکستان کو اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی تھی، جو تجارتی سرگرمیوں کی بندش کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی بندرگاہیں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا اہم مرکز رہی ہیں اور سالانہ 40 سے 45 ہزار کنٹینرز افغانستان کے لیے کراچی کے راستے ٹرانزٹ ہوتے ہیں۔ ہر کنٹینر پر ٹرانسپورٹ، انشورنس، پورٹ چارجز، کلیئرنگ اور دیگر خدمات کی مد میں اوسطاً چار ہزار امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جس سے پاکستان کو سالانہ تقریباً 16 کروڑ امریکی ڈالر کا معاشی فائدہ حاصل ہوتا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ دس ماہ کے دوران اس بندش کے باعث پاکستان کو تقریباً 10 کروڑ 60 لاکھ امریکی ڈالر کا نقصان پہنچا۔ اکتوبر 2025 سے اپریل 2026 تک تقریباً 10 ہزار ٹرانزٹ کنٹینرز پاکستان میں پھنسے رہے جن پر بھاری ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز عائد کیے گئے۔ ان کے مطابق ہر کنٹینر پر اوسطاً 120 امریکی ڈالر یومیہ جرمانہ وصول کیا گیا جس کے نتیجے میں افغان درآمد کنندگان کو روزانہ تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔
ضیاء الحق سرحدی، جو فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے صدر بھی ہیں، نے کہا کہ افغانستان کی پاکستان کو سالانہ برآمدات تقریباً 80 کروڑ امریکی ڈالر ہیں، جبکہ گزشتہ دس ماہ کے دوران تجارتی بندش کے باعث افغان برآمد کنندگان کو تقریباً 53 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی طرح واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت کو افغانستان کی سالانہ برآمدات تقریباً 30 کروڑ امریکی ڈالر ہیں، جن میں تعطل کے باعث افغان تاجروں کو تقریباً 20 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاک افغان تجارت کی بندش سے بالواسطہ اور بلاواسطہ لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں، جس کے منفی اثرات خیبرپختونخوا اور ضم شدہ اضلاع میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی گزرگاہوں کی بندش سے نہ صرف افغانستان بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی بھی متاثر ہوئی ہے اور پاکستان اس وقت تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے عملی طور پر محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
ضیاء الحق سرحدی نے بتایا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام منعقدہ پہلی پاکستان اکنامک سمٹ کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز، یو بی جی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر، سرحد چیمبر کے صدر جنید الطاف اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے خیبرپختونخوا کے تاجروں کو درپیش مسائل، پاک افغان سرحدی تجارت کی بندش اور فاٹا پاٹا مراعات کے خاتمے کے حوالے سے وزیر داخلہ سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ جلد پشاور کا دورہ کریں گے اور تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

انہوں نے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک اپنے سخت مؤقف پر نظرثانی کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں تاکہ دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تجارت کا فروغ غربت کے خاتمے، معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور خطے میں پائیدار امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔