خیبر (کیو این این ورلڈ/بیورو رپورٹ) جماعت اسلامی ضلع خیبر نے لیوی ٹیکس، آئی پی پیز، سابقہ فاٹا اور پاٹا پر عائد ٹیکسوں، مہنگائی، بدامنی اور بے روزگاری کے خلاف 7 اگست کو ملک گیر ہڑتال اور بابِ خیبر جمرود میں احتجاجی دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی ضلع خیبر کے امیر شاہ فیصل آفریدی نے کہا ہے کہ یہ احتجاج عوامی حقوق کے تحفظ اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خاتمے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
جمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ فیصل آفریدی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پر 7 اگست کو ملک بھر میں ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عوام پر مختلف ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رکھا ہے جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث عام آدمی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام سے پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر سو روپے سے زائد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جبکہ آئی پی پیز کو اربوں روپے کی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پالیسیوں سے عوام پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے اور اس صورتحال کے خلاف جماعت اسلامی ملک گیر احتجاجی تحریک چلا رہی ہے۔
شاہ فیصل آفریدی نے طورخم بارڈر کی بندش کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرحدی گزرگاہ کی طویل بندش سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں اور مقامی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ طورخم بارڈر کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ تجارت، روزگار اور عوامی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج صرف ٹیکسوں کے خلاف نہیں بلکہ مہنگائی، بدامنی، بے روزگاری اور دیگر عوامی مسائل کے خلاف بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیراہ کے متاثرین کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدے تاحال پورے نہیں کیے گئے، لہٰذا متاثرین کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں۔
جماعت اسلامی ضلع خیبر کے امیر نے اعلان کیا کہ 7 اگست کو صبح 8 بجے بابِ خیبر جمرود میں احتجاجی دھرنا دیا جائے گا جو شام تک جاری رہے گا۔ انہوں نے سیاسی و سماجی تنظیموں، تاجروں، طلبہ، نوجوانوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ احتجاج میں بھرپور شرکت کریں تاکہ عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کے دوران قبائلی اضلاع پر عائد ٹیکسوں، تیراہ اور باڑہ کے آئی ڈی پیز کو درپیش مشکلات، طورخم بارڈر کی بندش اور اس سے متاثر ہونے والے روزگار سمیت دیگر عوامی مسائل کو بھی بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تمام مسائل کے حل کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔
آخر میں شاہ فیصل آفریدی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے حکومت کو پیش کیے گئے 14 نکات پر عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے اور 7 اگست کا احتجاج عوامی حقوق، مہنگائی کے خاتمے اور عوام دوست پالیسیوں کے نفاذ کے لیے ایک مؤثر آواز ثابت ہوگا۔
QNN World — مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت