پاکستان کی سکیورٹی اور قومی استحکام کیلئے گڈ گورننس ناگزیر ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی (کیو این این ورلڈ) پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی، استحکام اور ترقی کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے، جبکہ قومی مسائل کے مؤثر حل کے لیے انتظامی نظام میں بہتری اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔

انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی سے متعلق پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق بیان پر سوال کیا تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ محسن نقوی کی ذاتی رائے ہے اور وہ اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے، تاہم اتنا ضرور کہیں گے کہ پاکستان کے استحکام اور سکیورٹی کے لیے اچھی حکمرانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1972ء میں پاکستان کی آبادی تقریباً 7 سے 8 کروڑ تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک اسی طرز پر قائم ہے۔ ان کے مطابق آبادی میں غیر معمولی اضافے کے بعد نئے حالات اور تقاضوں کے مطابق سوچنے اور نظام کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ گڈ گورننس کے بغیر قومی مسائل کا حل ممکن نہیں۔ اگر مؤثر حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ یا نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات اور مؤثر طرز حکمرانی فراہم کی جا سکے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کی رائے کو ہر فیصلے میں بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ اگر عوام موجودہ نظامِ حکمرانی سے مطمئن ہیں تو یہ خوش آئند بات ہے، لیکن اگر مسائل برقرار ہیں اور عوام مطمئن نہیں تو آئینی طریقہ کار کے تحت بہتر حل تلاش کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق طے ہونے چاہئیں اور گڈ گورننس ہی قومی سلامتی، استحکام اور ترقی کی بنیاد ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اس میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے نظام میں بہتری لانا ضروری ہے۔

محسن نقوی نے کہا تھا کہ سیاسی نظام چلانے والے اور اسے مالی معاونت فراہم کرنے والے تمام حلقوں کو اصلاحات کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے بقول جب تمام اسٹیک ہولڈرز نظام کی بہتری کا فیصلہ کر لیں گے تو موجودہ چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے، کیونکہ موجودہ نظام میں خامیوں کے باوجود بہت سی مثبت چیزیں بھی موجود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے