شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش ناقابل برداشت، کندھ کوٹ کے شہری سڑکوں پر نکل آئے

کندھ کوٹ (کیو این این ورلڈ/وقاراحمد اعوان کی رپورٹ) کندھ کوٹ میں سیپکو کی جانب سے جاری غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف سیاسی و سماجی رہنماؤں، سول سوسائٹی، تاجر برادری اور شہری اتحاد کے زیر اہتمام ایگزیکٹو انجینئر سیپکو کے دفتر کے سامنے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے بجلی کی مسلسل بندش پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سیپکو حکام کے خلاف نعرے بازی کی اور فوری طور پر لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کندھ کوٹ شہر میں غیر اعلانیہ اور طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ شدید گرمی کے موسم میں گھنٹوں بجلی بند رہنے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ روزمرہ معمولات بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ بجلی کی مسلسل بندش کے باعث بچے، بزرگ، خواتین اور مریض شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔ گرمی کی شدت میں اضافہ ہونے کے باوجود سیپکو حکام صورتحال پر قابو پانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ شہریوں نے شکایت کی کہ لوڈشیڈنگ کا کوئی باقاعدہ شیڈول موجود نہیں، جس کے باعث عوام کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ بجلی کب آئے گی اور کب چلی جائے گی۔

احتجاج میں شریک تاجروں نے کہا کہ طویل لوڈشیڈنگ کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں، دکانوں اور تجارتی مراکز میں کام کاج متاثر ہونے سے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی عدم دستیابی نے نہ صرف کاروبار بلکہ گھریلو زندگی کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔

سیاسی و سماجی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیپکو حکام عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیں اور فوری طور پر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہریوں کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور لوڈشیڈنگ کے حوالے سے واضح شیڈول جاری کیا جائے تاکہ عوام کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مظاہرین نے وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت سیپکو کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ کندھ کوٹ میں جاری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور شدید گرمی میں شہریوں کو درپیش مشکلات کا مستقل حل نکالا جائے۔ احتجاج کے شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر بجلی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے