اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش انتظامی اور حکومتی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، جبکہ نوجوان نسل محض لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ نہیں بلکہ شفاف نظام، روزگار اور اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نوجوان طبقہ متحد ہو گیا تو وہ موجودہ نظام کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔
پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں، تاہم آج انہیں کچھ سیاسی نکات پر بات کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں مختلف صوبوں سے آئے شرکا نے اپنے اپنے مسائل بیان کیے اور ان مسائل سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت سب کی خواہش ہے اور وہ خود بھی جمہوری نظام کے حامی ہیں، تاہم مسائل کے حل کے لیے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی نظام کو چلانے والے اور اسے مالی معاونت فراہم کرنے والے دونوں اسی معاشرے کا حصہ ہیں، اور جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز اصلاحات پر متفق نہیں ہوں گے، بہتری ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ عام آدمی کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن بدقسمتی سے آج بھی شہریوں کو معمولی قانونی اور انتظامی معاملات کے لیے گھنٹوں سفر کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ عوامی سطح پر لے جانا ہوگا اور اس پر کھل کر بحث ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے نئی قیادت سامنے آئے گی، گورننس بہتر ہوگی اور عوامی مسائل مقامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں حل کیے جا سکیں گے۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد میں ایک میز پر بیٹھیں اور نئے صوبوں سمیت دیگر اہم قومی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ ان کے بقول جب تک سیاسی قوتیں مشترکہ حکمت عملی اختیار نہیں کریں گی، ملک کو درپیش مسائل جوں کے توں رہیں گے۔
نوجوانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ نوجوان نسل کو محض لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ دے کر مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ نوجوان چاہتے ہیں کہ نظام شفاف ہو، انہیں میرٹ پر ملازمتیں ملیں اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل اپنے مستقبل اور حق کی بات کر رہی ہے، اور "یہ کاکروچ اگر اکٹھا ہو گیا تو ہر چیز الٹ سکتا ہے۔”
محسن نقوی نے مزید کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے صرف حکومت پر انحصار کافی نہیں، بلکہ کاروباری برادری کو بھی سیاسی اور سماجی عمل میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی مالی معاونت تو فراہم کرتی ہے لیکن عملی سیاست اور پالیسی سازی میں بھرپور شرکت نہیں کرتی، جس کے باعث اصلاحات کا عمل سست روی کا شکار رہتا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی محنت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم روزانہ 12 سے 14 گھنٹے کام کرتے ہیں اور اگر وہ 18 گھنٹے بھی کام کریں تو زیادہ تر وقت ہنگامی مسائل کے حل میں صرف ہو جاتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ نظام کو ازسرنو منظم کیا جائے تاکہ مستقل بنیادوں پر بہتری لائی جا سکے۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ، جامعات اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات کے موضوع پر سنجیدہ اور وسیع قومی مکالمہ شروع کیا جائے۔ محسن نقوی نے یقین دلایا کہ وہ کاروباری برادری کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔