لنڈی کوتل(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار)محکمہ کھیل ضلع خیبر اور ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر کے تعاون سے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں تین روزہ نیشنل بی کلاس فٹ بال ریفری کورس کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا۔ کورس کے انعقاد کا مقصد ضلع خیبر میں فٹ بال کے معیار کو بہتر بنانا، تربیت یافتہ ریفریز کی تیاری اور مقامی سطح پر کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنانا تھا۔
تین روزہ تربیتی کورس میں ضلع خیبر کی تینوں تحصیلوں سے تعلق رکھنے والے فٹ بال سے وابستہ 15 آفیشلز نے شرکت کی۔ کورس کے دوران شرکاء کو فٹ بال کے جدید بین الاقوامی قوانین، میچ آفیشلنگ، ریفری کے فرائض، کھیل کے دوران فیصلے کرنے کی مہارت اور عملی تربیت فراہم کی گئی تاکہ وہ مستقبل میں مقامی اور علاقائی سطح پر فٹ بال مقابلوں میں بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
خیبر سپورٹس کلب کی جانب سے اختر رسول شینواری نے بھی کورس میں شرکت کی اور تربیتی سیشنز سے استفادہ حاصل کیا۔ شرکاء نے کورس کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تربیتی پروگرام ضلع خیبر میں فٹ بال کے فروغ اور معیاری مقابلوں کے انعقاد کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تربیت یافتہ ریفریز کی دستیابی سے مقامی سطح پر کھیلوں کے مقابلوں میں شفافیت اور معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
شرکاء نے محکمہ کھیل ضلع خیبر کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر (ڈی ایس او) فیصل جاوید کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل جاوید نے ضلع خیبر میں کھیلوں کے فروغ اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے ہیں، جن کے مثبت نتائج مستقبل میں سامنے آئیں گے۔

کورس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر فیصل جاوید نے تربیتی پروگرام کے کامیاب انعقاد اور بہترین انتظامات پر حیات آباد سپورٹس کمپلیکس کے ایڈمنسٹریٹر عابد ناظم اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے تربیتی پروگراموں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ نوجوانوں اور کھیلوں سے وابستہ افراد کو اپنی صلاحیتوں میں نکھار لانے کے مزید مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حاصل کردہ تربیت اور تجربے کو مقامی سطح پر فٹ بال کے فروغ اور کھیل کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بروئے کار لائیں گے۔ اس موقع پر کھیلوں کی ترقی، نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں میں شمولیت اور ضلع خیبر میں فٹ بال کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا گیا۔
