ماسکو (کیو این این ورلڈ) روس نے اپنے سب سے جدید اور تعداد میں انتہائی کم ترین سُخوئی سو-57 (Su-57) اسٹیلتھ جنگی طیاروں کو فضائی برتری اور گہرے حملوں کے اصل مشن سے ہٹا کر یوکرین کے دور تک مار کرنے والے کامیکازی ڈرونز کو گرانے کے ہنگامی مشن پر مامور کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی تزویراتی فیصلہ جولائی 2026 کے اوائل میں استراخان خطے کے اختوبنسک ایئر فیلڈ کی سیٹلائٹ تصاویر سے سامنے آیا ہے، جس سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ پینٹسر اور ایس-400 میزائل سسٹمز پر مشتمل روس کا زمینی دفاعی نیٹ ورک اب یوکرینی حملوں کے سامنے ملکی دفاع کرنے میں بری طرح ہچکولے کھا رہا ہے۔
اس ہنگامی صورتحال کی سب سے بڑی وجہ 6 جولائی 2026 کو سائبیریا کی گہرائی میں واقع اومسک آئل ریفائنری پر یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے یکطرفہ حملہ آور ڈرونز کا تباہ کن حملہ بنی ہے، جو فرنٹ لائن سے 2 ہزار 700 کلومیٹر دور روس کی اہم ترین تیل کی تنصیب ہے۔ روسی فضائیہ نے اس بڑے حملے کو روکنے کے لیے سو-57 طیاروں کے ساتھ ایک اے-50 یو (A-50U) ارلی وارننگ طیارہ بھی فضا میں روانہ کیا، لیکن اوپن سورس مانیٹرنگ گروپس ‘ایگزائل نووا پلس’ اور ‘میکس 26’ کے مطابق یہ طیارے صرف ایک ڈرون کو مار گرانے میں کامیاب رہے جبکہ باقی ڈرونز نے ریفائنری کو نشانہ بنا کر بھاری نقصان پہنچایا۔

اس نئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے روسی انجینئرز نے سو-57 طیاروں کے ڈیزائن میں تو کوئی تبدیلی نہیں کی، لیکن ان پر ہتھیاروں اور سینسرز کا ایک بالکل نیا اور غیر روایتی عسکری امتزاج لاد دیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ سو-57 طیاروں کے پروں کے نیچے بیرونی طور پر آر-73 یا آر-74 انفراریڈ گائیڈڈ کم فاصلے کے میزائل نصب کیے گئے ہیں۔ عام طور پر طیارے کی اسٹیلتھ صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے یہ میزائل اندرونی خانوں میں چھپا کر رکھے جاتے ہیں، لیکن ڈرون حملوں کی کثرت کا مقابلہ کرنے کے لیے روس نے اپنی اسٹیلتھ ڈسپلن کی قربانی دے کر میزائلوں کو باہر نصب کیا ہے۔
میزلوں کے ساتھ ساتھ ان طیاروں پر انجن کے نیچے ایک بیرونی الیکٹرو آپٹیکل ٹارگیٹنگ پوڈ (101KS-N) بھی نصب کیا گیا ہے، جو اصل میں زمین پر درست نشانہ بازی کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اب اسے چھوٹے ڈرونز کی ٹریکنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ طیارے کا اپنا طاقتور ‘این-036 بیئلکا’ ریڈار اور ‘اٹول’ سینسر سسٹم بھی اس ہنگامی مشن میں استعمال ہو رہا ہے، جس کی مدد سے انتہائی کم ریڈار کراس سیکشن والے ڈرونز کا کھوج لگایا جاتا ہے۔ ایک پانچویں نسل کے انتہائی مہنگے عسکری طیارے کو معمولی نوعیت کے سستے ڈرونز کے خلاف استعمال کرنا بین الاقوامی مبصرین کی نظر میں ایک بہت بڑا معاشی اور جنگی تضاد ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مڈ-2026 تک روس کے پاس فعال سو-57 طیاروں کی کل تعداد محض 20 سے 35 کے درمیان ہے، جبکہ 10 کے قریب پروٹوٹائپس موجود ہیں۔ اتنے نایاب اور قیمتی فضائی اثاثوں کو سستے ڈرونز کا شکار کرنے پر مجبور کرنے سے روس کی وہ جنگی صلاحیت شدید متاثر ہو رہی ہے جو وہ یوکرینی فضائی دفاع کو تباہ کرنے یا دور مار میزائل حملوں کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ یوکرین کی گہرے حملوں کی مہم نے روس کو اپنی جنگی معیشت کے مرکز یعنی تیل کے انفراسٹرکچر کو بچانے کے لیے ایک انتہائی مہنگے اور دفاعی موڈ پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔
