طبی غفلت یا قتلِ عام؟ کراچی کا کلثوم بائی ولیکا اسپتال لاڑکانہ اور تونسہ شریف کے بعد ایچ آئی وی پھیلاؤ کا نیا مرکز بن کر سامنے آ گیا۔ استعمال شدہ سرنجوں سے درجنوں معصوم بچوں کے ایچ آئی وی کا شکار ہونے کے انکشاف نے طبی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ موت کا کاروبار اور سماجی بائیکاٹ کے اس ہولناک معاملے میں نہ صرف معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے مافیا کے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے زندگی بھی اجیرن ہو گئی ہے۔
کراچی (کیو این این ورلڈ ) سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے سائٹ ٹاؤن میں واقع کلثوم بائی ولیکا ہسپتال میں سرنجوں کے مجرمانہ دوبارہ استعمال اور انفیکشن کنٹرول کی سنگین ناکامی نے ایک ہولناک طبی و انسانی بحران کو جنم دیا ہے، جو اب ایک باقاعدہ انویسٹی گیشن کے بعد لاڑکانہ اور تونسہ شریف کے بعد ملک کا تیسرا بڑا ایچ آئی وی آؤٹ بریک بن کر سامنے آیا ہے۔
اندرونی تحقیقاتی ذرائع اور دستاویزی شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI) کے زیرِ انتظام چلنے والے اس سرکاری ہسپتال میں معصوم بچوں کو ایک ہی سرنج سے متعدد بار انجکشن لگائے جانے کا بھیانک کھیل کھیلا جاتا رہا، جس کے نتیجے میں اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 78 سے 81 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے۔
غیر سرکاری اور میڈا رپورٹس میں یہ تعداد 100 سے 200 سے زائد بتائی جا رہی ہے اور اب تک 6 سے 9 معصوم بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق یہ پھیلاؤ نومبر 2025 سے فروری 2026 کے درمیان اپنے عروج پر پہنچا۔
بعد ازاں جون 2026 میں انکوائری رپورٹ کی روشنی میں 37 ملازمین کو معطل کیا گیا اور اب جولائی 2026 میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 2 ارب روپے کے فنڈز اور ایف آئی آرز درج کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم ہائی کورٹ میں کیس زیرِ سماعت ہونے کے باوجود متاثرہ خاندان انصاف اور بنیادی سیکیورٹی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
اس ہولناک انکشاف کے پیچھے صرف طبی عملے کی مجرمانہ لاپرواہی ہی نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کے خلاف ایک بدترین سماجی و معاشی بائیکاٹ کا شرمناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔
اورنگی ٹاؤن ضیا کالونی کے رہائشی آفتاب خان کے چار معصوم بچوں (جن کی عمریں 3 سے 12 سال کے درمیان ہیں) میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے، جنہوں نے جیو ڈیجیٹل کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں ہسپتال انتظامیہ کو براہِ راست کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ایک ہی سرنج سے بچوں کو سوئیاں چبھوئی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب ان کی بیٹی نے اس پر احتجاج کیا تو نرس نے انتہائی تکبر سے جواب دیا کہ "تم ڈاکٹر ہو یا ہم؟”۔ اس طبی غفلت کی سزا اب آفتاب کا پورا خاندان بھگت رہا ہے، جہاں ان کے بیٹے کو محلے والوں کے دباؤ پر سکول سے نکال دیا گیا ہے اور گزشتہ تین ماہ سے مکان کا کرایہ ادا نہ کرنے کے باعث وہ شدید مالی و ذہنی کٹھن کا شکار ہیں۔
اسی طرح اتحاد ٹاؤن کی عائشہ کامران اور پٹھان کالونی کے محمد آصف کی کہانیاں بھی رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں، جہاں ان کے بیمار بچوں کی تشخیص کے بعد مکان مالکان نے انہیں گھر خالی کرنے کے نوٹس دے دیے ہیں اور محلے داروں نے ان کے معصوم بچوں کے ساتھ دوسرے بچوں کے کھیلنے پر سخت پابندی عائد کر دی ہے، جس نے ان خاندانوں کو جیتے جی جہنم میں دھکیل دیا ہے۔
انسانی حقوق کے ممتاز کارکن اور ایچ آئی وی آگاہی مہم کے روحِ رواں ذوالفقار بھٹو جونیئر نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ "سندھ اینٹی ڈسکرمنیشن ایکٹ” کے تحت کسی بھی بچے کو ایچ آئی وی جیسی دائمی بیماری کی بنیاد پر سکول سے نکالنا سراسر غیر قانونی اور سنگین جرم ہے۔
وہ حیدرآباد، دادو اور لاڑکانہ کے بعد اب کراچی میں بھی نچلی سطح پر آگاہی کیمپس لگا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ سمجھایا جا سکے کہ "ایڈز چھونے سے نہیں پھیلتی” بلکہ یہ ہسپتالوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔
اگر اس تباہ کن آؤٹ بریک کا ماضی کے واقعات سے موازنہ کیا جائے تو یہ پاکستان کی تاریخ کی ایک ہولناک کڑی نظر آتی ہے۔ اس سے قبل 2019 میں لاڑکانہ کے تحصیل رتوڈیرو میں سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے 900 سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے جن میں 85 فیصد بچے تھے اور 50 سے زائد اموات ہوئیں۔
اسی طرح 2024-2025 میں پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ایک ہی سرنج کے بار بار استعمال اور انفیکشن کنٹرول میں مبینہ غفلت کے باعث 331 بچوں کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کا انکشاف سامنے آیا تھا۔ اس واقعے کے بعد چند روز تک حکام متحرک رہے، ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کو معطل بھی کیا گیا، تاہم معاملہ ٹھنڈا پڑتے ہی انہیں بحال کر دیا گیا۔ اس سنگین سانحے میں ذمہ داروں کے خلاف کسی واضح اور شفاف احتسابی عمل یا مؤثر سزا و جزا کی مثال سامنے نہ آ سکی۔
اسی طرح لاڑکانہ کے رتوڈیرو ایچ آئی وی آؤٹ بریک کا معاملہ بھی وقت گزرنے کے ساتھ پس منظر میں چلا گیا، جبکہ اب کراچی کے کلثوم بائی ولیکا ہسپتال کا کیس عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جہاں متاثرہ خاندان انصاف اور ذمہ دار عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کے منتظر ہیں۔
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول اور ڈسپوزایبل سرنجوں کے استعمال کی سخت نگرانی کا فول پروف نظام وضع نہ کیا گیا، تو ولیکا ہسپتال کا یہ واقعہ صرف ایک ہولناک آغاز ثابت ہوگا اور مزید ہزاروں معصوم زندگیاں اس بلیک میلنگ اور طبی مافیا کی بھینٹ چڑھ جائیں گی۔