عدالتی احکامات پر عملدرآمد، گھوٹکی میں جنگلاتی اراضی واگزار

گھوٹکی ( کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری) محکمہ جنگلات گھوٹکی نے ایک بڑی کارروائی کے دوران جروار کے جنگل میں غیر قانونی طور پر کاشت کی گئی دھان کی فصل اور نرسری کو مکمل طور پر تلف کر دیا ہے۔ یہ اقدام اعلیٰ عدالتوں کے احکامات کی روشنی میں سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کی مہم کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

ڈویژنل فاریسٹ آفیسر ضیاء اللہ لغاری نے اس حوالے سے ایک اہم اعلامیہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان، سندھ ہائی کورٹ بینچ سکھر اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گھوٹکی کی واضح ہدایات کے مطابق ضلع بھر میں محکمہ جنگلات کی اراضی سے تمام ناجائز قبضے ختم کرانے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

اسی سلسلے میں جروار کے جنگل میں سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے ایک منظم اور بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔ آپریشن کے پہلے مرحلے کے دوران چوکڑی نمبر 59، 60 اور 71 کو نشانہ بنایا گیا، جہاں غیر قانونی طور پر کاشت کی گئی دھان (چاول) کی فصل اور نرسری کو موقع پر ہی ختم کر دیا گیا۔

اس آپریشن کے دوران زمین میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے انتظامیہ کو ٹریکٹر چلانے میں شدید دشواری کا سامنا تھا، جس کے باعث متبادل حکمت عملی اپنائی گئی۔ انتظامیہ نے فوری طور پر 10 اسپرے مشینوں کا انتظام کیا اور زہریلی دوا کا اسپرے کرکے غیر قانونی طور پر اگائی گئی پوری فصل کو تلف کر دیا۔

اعلامیے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے احکامات پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے جولائی اور اگست پر مشتمل ایک ماہ سے زائد عرصے کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس پورے آپریشن کو تین مختلف مراحل میں کامیابی سے مکمل کیا جائے گا۔

اس منصوبے کے بنیادی مقاصد میں جنگلات کی قیمتی اراضی سے تمام غیر قانونی فصلوں کا خاتمہ کرنا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی واگزار کرائی گئی تمام سرکاری زمین کو دوبارہ محکمہ جنگلات کے کنٹرول میں لے کر وہاں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے گی تاکہ جنگلات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

جاری کردہ اعلامیے میں قبضہ مافیا اور ناجائز قابضین کو سخت الفاظ میں خبردار کیا گیا ہے کہ وہ محکمہ جنگلات کی زمین سے ازخود اپنے قبضے فوری طور پر ختم کر دیں۔ بصورت دیگر متعلقہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ان کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج کرائے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے