دیرینہ آبی مسئلہ حل، محکمہ انہار کے اقدامات پر کاشتکار مطمئن

اوکاڑہ (کیو این این ورلڈ/بیورو چیف ملک ظفر) چک نمبر 22 فور ایل اور 23 فور ایل کی آخری ٹیلوں پر نہری پانی کی فراہمی کے دیرینہ مسئلے کے حل ہونے پر مقامی کسانوں نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ انہار کے اقدامات کو سراہا ہے۔ اس موقع پر ایکسین محکمہ انہار اوکاڑہ محمد طاہر نے کہا کہ کسانوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانا ان کی ذمہ داری ہے اور پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق چک نمبر 22 فور ایل اور 23 فور ایل کے آخری سروں پر واقع زرعی اراضی کے کاشتکاروں کو طویل عرصے سے نہری پانی کی شدید کمی کا سامنا تھا۔ کسانوں کے مطابق متعدد بار نشاندہی اور مطالبات کے بعد محکمہ انہار نے عملی اقدامات کرتے ہوئے پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا، جس کے نتیجے میں نہری پانی آخری ٹیلوں تک پہنچنا شروع ہو گیا اور کاشتکاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل میں چوہدری فیاض ظفر نے مؤثر کردار ادا کیا، جبکہ ملک خالد یعقوب نے بھی خصوصی تعاون فراہم کیا، جس پر علاقے کے کاشتکاروں نے دونوں شخصیات کا شکریہ ادا کیا۔

کاشتکاروں کے مطابق ایکسین محکمہ انہار اوکاڑہ محمد طاہر نے خود فیلڈ میں موجود رہ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کی نگرانی کی، جس کے باعث برسوں سے درپیش مسئلہ حل ہوا اور آخری ٹیلوں تک پانی کی فراہمی ممکن بنائی گئی۔

اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایکسین محکمہ انہار اوکاڑہ محمد طاہر نے کہا کہ انہیں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد احساس ہوا کہ کسان واقعی پانی کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور اگر کہیں پانی چوری کی شکایات سامنے آئیں تو کاشتکار فوری طور پر ان سے رابطہ کریں، شکایت کا فوری ازالہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب بعض کسانوں نے محکمہ انہار کے میٹ محمد نواز کی فوری تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے پانی چوری سے متعلق اطلاعات بروقت متعلقہ حکام تک نہیں پہنچائیں۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر ان کی ملی بھگت کے باعث پانی چوری کا سلسلہ جاری رہا اور اعلیٰ حکام کو حقائق کے برعکس رپورٹس ارسال کی جاتی رہیں، جس سے محکمہ کی ساکھ متاثر ہوئی۔

کسانوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل دوبارہ جنم نہ لیں۔

نوٹ: خبر کے آخری حصے میں شامل الزامات مقامی کسانوں کے مؤقف پر مبنی ہیں، جن کی متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے