بھارتی آبی جارحیت کے خلاف پیپلز پارٹی کا سندھ بھر میں احتجاجی ریلیوں کا اعلان

کراچی (کیو این این ورلڈ):پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سندھ نے بھارت کی جانب سے مبینہ آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے اتوار 12 جولائی کو سندھ بھر میں "مرسوں مرسوں سندھو نہ ڈیسوں” ریلیاں نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے نعرے "مرسوں مرسوں سندھو نہ ڈیسوں” کے تحت سندھ کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاجی ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے پارٹی کی تمام ضلعی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں پانی پر ڈاکے کے خلاف بھرپور عوامی احتجاج کا اہتمام کریں۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ دریائے سندھ اور اس کا پانی پاکستان کے عوام، خصوصاً سندھ کے کروڑوں لوگوں کی زندگی، زراعت اور معیشت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی دریائے سندھ کا گلہ گھونٹنے اور پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے اقدام کو بین الاقوامی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت قانونی طور پر اس معاہدے کو نہ معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

پی پی پی سندھ کے صدر کا کہنا تھا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش نہ صرف خطے کے امن بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ سے لاکھوں خاندانوں کا روزگار اور زندگی وابستہ ہے، اس لیے اس کے پانی پر کسی قسم کا ڈاکا قبول نہیں کیا جائے گا۔

نثار کھوڑو نے مزید کہا کہ پاکستان کو پانی کسی ملک کی جانب سے احسان کے طور پر نہیں ملا بلکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی حق حاصل ہے، جس کے مطابق پاکستان کو مغربی دریاؤں کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے پانی کو روکنے کی کوشش دراصل پاکستان کے وجود اور بقا کے لیے خطرہ ہے، جس کے خلاف پیپلز پارٹی ہر فورم پر آواز بلند کرے گی اور دریائے سندھ کے پانی کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

نثار کھوڑو نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 1991ء کے آبی معاہدے کے مطابق صوبوں کے درمیان پانی کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چشمہ جہلم لنک کینال اور ٹی پی لنک کینال، جو فلڈ کینالز ہیں، ان میں پانی کے مسلسل بہاؤ کو روکا جائے تاکہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق تحفظات دور کیے جا سکیں۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے اعلان کردہ احتجاجی ریلیوں کے سلسلے میں سندھ بھر میں پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کی تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں عوامی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے مشاورت اور رابطوں کا عمل بھی جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے