کندھ کوٹ (کیو این این ورلڈ/وقاراحمد اعوان کی رپورٹ):رسالدار تھانے کی حدود میں واقع شاہی واہ میں ڈوبنے والے نوجوان مجیب ولد محمد صلاح کی تلاش کے لیے پانچویں روز بھی بھرپور سرچ آپریشن جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پولیس، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ تلاش کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پاک بحریہ کے ماہر غوطہ خوروں کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کشمور آغا شیر زمان کی نگرانی میں جاری سرچ آپریشن کے دوران ریسکیو 1122 اور پاک بحریہ کی ٹیمیں مختلف مقامات پر پانی میں تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق لاپتا نوجوان کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل اور جدید سہولیات بروئے کار لائی جا رہی ہیں تاکہ جلد از جلد اسے تلاش کیا جا سکے۔
سرچ آپریشن کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون، اسسٹنٹ کمشنر کندھ کوٹ، محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ افسران، پولیس حکام اور ریسکیو 1122 کا عملہ بھی موجود رہا اور آپریشن کی مسلسل نگرانی کرتا رہا۔ متعلقہ اداروں کی ٹیمیں مختلف مقامات پر پانی کا جائزہ لینے اور ممکنہ مقامات کی نشاندہی کرنے میں مصروف ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کشمور آغا شیر زمان کی ہدایت پر محکمہ آبپاشی کی جانب سے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایگزیکٹو انجینئر (ایکسین) محکمہ آبپاشی جاوید احمد چاچڑ نے 27 میل کے مقام پر پانی کی سطح کم کرنے کے لیے انتظامات شروع کر دیے ہیں تاکہ سرچ آپریشن میں درپیش مشکلات کو کم کیا جا سکے اور تلاش کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر آغا شیر زمان نے واقعے کے مقام کا دورہ کرتے ہوئے پاک بحریہ، ریسکیو 1122 اور دیگر اداروں کی ٹیموں کے ہمراہ جاری آپریشن کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے لاپتا نوجوان کے اہل خانہ سے ملاقات بھی کی، ان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ نوجوان کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاپتا شخص کی بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں اور سرچ آپریشن کو کامیابی تک بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ آپریشن میں مزید تیزی لائی جائے اور تمام محکمے باہمی رابطے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔
علاقہ مکینوں اور لواحقین نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ جاری سرچ آپریشن جلد کامیاب ہوگا اور لاپتا نوجوان کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے آ سکیں گی۔ اس دوران اہل خانہ شدید اضطراب اور بے چینی کی کیفیت میں اپنے پیارے کی بازیابی کے منتظر ہیں۔