نواب صاحب کی حویلی
تحریر: سید نذیر شاہ
آپ نے کبھی کسی ایسے نواب کو دیکھا ہے، جس کی حویلی کے پرانے در و دیوار تو ماضی کی شان و شوکت کی گواہی دیتے ہوں، لیکن اندر کچھ نہ بچا ہو؟ اس کے دیوان خانے میں جائیں دیواروں پر باپ دادا کی بارعب تصویریں سجی ہوں یا نواب صاحب کسی بے چارے ہرن یا مرے ہوئے چیتے کے سر پر بندوق تانے فاتحانہ مسکرا رہے ہوں نواب صاحب شجاعت و بہادری کے ایسے قصے سنائے جائیں کہ سننے والے کے کان تک تھک جائیں، لیکن جیسے ہی شام ہو، اسی حویلی کے باورچی خانے میں اندھیرا چھا جائے کیونکہ چولہا جلانے کے لیے ماچس تک پڑوسی سے ادھار مانگنی پڑتی ہو۔ یہ نواب صاحب اب اپنے شاہانہ خرچ کے لیے کسی پرانے تعلق دار یا کسی نو دولتے سود خورے کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں، مگر کمال یہ ہے کہ ان کی اکڑی ہوئی گردن پھر بھی نہیں جھکتی اگر آپ نے زندگی میں ایسا نواب نہیں دیکھا، تو بس ایک بار آئینے کے سامنے کھڑے ہو جائیں، ہم چوبیس کروڑ لوگوں کا پورا ملک اسی روپ میں نظر آ جائے گا۔
آج دنیا بھر کے تھنک ٹینکس اور معیشت کے بڑے بڑے بقراط سر جوڑے اور حیرت سے دانتوں تلے انگلیاں دبائے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بھئی اس حویلی کے پاس پانچ دریا بھی ہیں، دنیا کی زرخیز ترین زمین ہے، زمین کے نیچے دفن تانبے، سونے کوئلے اور کھربوں ڈالر کے قیمتی منرلز کے خزانے ہیں اور کمال کا جوان خون بھی ہے مگر حالت یہ ہے کہ نواب صاحب کے ٹھاٹ باٹ قرض کی بیساکھیوں پر ٹکے ہوئے ہیں۔ آخر کیوں؟ بس وہی پرانا جھوٹا بھرم اور شاہانہ عیاشی کی لت، جو جیب بالکل خالی ہو جانے کے بعد بھی نہیں چھوٹ رہی۔ باہر دیوان خانے کی سجاوٹ، وی آئی پی پروٹوکول اور شان و شوکت پر کروڑوں روپے لٹائے جا رہے ہیں اور اندر باورچی خانہ ادھار کے پیسوں پر چل رہا ہے۔
نواب صاحب، ایک ایٹمی طاقت ہیں اور حویلی کا جغرافیہ ایسا کمال کا ہے کہ بڑے بڑے پڑوسی بھی محتاط رہتے ہیں۔ اسی لیے عالمی پنچائت اس سفید پوشی کا تھوڑا بہت بھرم رکھ لیتی ہے، محفلوں میں اگلی نشست پر بٹھایا جاتا ہے اور آئی ایم ایف جیسے ساہوکار بھی ہنستے روتے قرض دے ہی دیتے ہیں۔ لیکن کیا یہ واقعی نواب صاحب کی عزت ہے؟ جی نہیں دراصل دنیا کا خوف ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر چوبیس کروڑ انسانوں کا یہ ایٹمی نواب بھوک اور مفلسی سے بے قابو ہو گیا، تو اس کی حویلی کا ملبہ پورے خطے اور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ بس اسی لیے نواب صاحب کو معاشی طور پر بالکل مرنے نہیں دیتے، ہمیں صرف اتنی ہی آکسیجن سپلائی کرتے ہیں کہ ان سانس چلتی رہے، اور ہر سال بجٹ سے پہلے نواب صاحب ان کے دروازے پر سلامی دینے پہنچ جائے۔
ویسے ماننا پڑے گا، نواب صاحب کے پاس صرف پرانے اور فرضی قصے ہی نہیں ہیں، بلکہ کچھ سچے اور بڑے کارنامے بھی اس کے نام رہے ہیں۔ اب اسی حویلی کی تاریخ دیکھ لیجیے، برادر اسلامی ممالک کی حفاظت اور مشکل وقت میں ان کی مدد کے لیے ہمیشہ سینہ تان کر سب سے آگے کھڑا ہونا اسی نواب کا طرۂ امتیاز رہا ہے اسے عالمی پنچائت میں ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرانے کا بڑا اعزاز بھی حاصل ہے، اور جب کبھی سرحد پار سے مکار دشمن نے کوئی چال چلنے یا شرارت کرنے کی کوشش کی، تو نواب صاحب نے اس کی ایسی اچھی خاصی مرمت کی کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ پوری دنیا نے دل سے مانا کہ اس نواب کے پاس رعب، بہادری اور دبدبہ بھی ہے، سفارتی مہارت اور لڑنے کی بھرپور صلاحیت بھی ہے۔
لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ اتنے بڑے بڑے معرکے مارنے اور بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوانے کے باوجود، اس نواب کو اپنی نوابی کا بھرم برقرار رکھنے کے لیے مستقل اور بڑھتی ہوئی آمدنی کا کوئی طریقہ نہیں ملا۔ وہ جنگ کے میدان میں اور عالمی محفلوں میں تو سرخرو ہو گیا، لیکن اپنی حویلی کی معیشت چلانا نہ سیکھا۔ جس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جرات، سفارت اور بہادری کے اتنے بڑے بڑے تمغے سینے پر سجانے کے بعد بھی جب گھر کا دال دلیہ چلانے کی بات آتی ہے تو نواب صاحب کو پھر سے اسی ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف جیسے سود خوروں کے پاس جا کر قرضہ لینا پڑتا ہے، یا پھر اپنے کسی پرانے تعلق دار یعنی کسی برادر ملک سے ادھار مانگنا پڑتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ نواب صاحب اس دلدل میں گرے کیوں؟ صاف بات ہے، نہ کوئی بزنس بڑھایا اور نہ ہی کوئی دکان چلائی۔ کارخانے لگانے، صنعتیں کھڑی کرنے اور ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے بجائے باپ دادا کی زمینیں اور اثاثے اون پونے داموں گروی رکھنا شروع کر دیے۔ پچھلے قرضوں کا سود چکانے کے لیے اس سے بھی مہنگا نیا قرض لے لیا۔ برآمدات کا یہ حال ہے کہ دنیا کو بیچنے کے لیے ان پاس پرانے قصوں اور کارناموں کے سوا کچھ ہے ہی نہیں- ٹیکس دینے والے چند لاکھ بیچارے لوگ ہیں اور جو کچھ بچتا ہے وہ اشرافیہ کے وی آئی پی کلچر، لمبی گاڑیوں اور غیر پیداواری عیاشیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے، بجلی گیس کے بل گھر کا ماتم بن چکے ہیں اور اس حویلی کا سب سے قیمتی سرمایہ، یعنی پڑھے لکھے نوجوان، یہاں سے مایوس ہو کر یا تو سمندروں میں ڈوبنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں یا پھر ملک سے بھاگ گئے یا بھاگنے کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔
آخر ان تباہ کن حالات سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ ظاہر ہے، یہ راستہ مزید قرض لینے سے تو ہرگز نہیں نکلتا، بلکہ اپنی آمدنی بڑھانے کے کڑوے اور تلخ سچ میں پوشیدہ ہے جب تک یہ نواب اپنی ان شاندار سفارتی اور دفاعی کامیابیوں کو معاشی خوشحالی میں نہیں بدلے گا اور اپنی مستقل آمدنی کا کوئی پکا اور پائیدار ذریعہ نہیں بنائے گا، تب تک دشمن کی مرمت اور دوستوں کے درمیان ثالثی کے یہ شاندار قصے صرف دیوان خانے کی رونق اور تالیوں کی گونج تو بڑھا سکتے ہیں، مگر حویلی کی معیشت کا اندھیرا دور نہیں کر سکتے۔ نواب صاحب کو اب حویلی کے فضول اخراجات، شاہانہ پروٹوکول، عیاشیوں اور کرپٹ ملازموں کے مہنگے تماشے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔ حقیقت تو یہی ہے کہ نوابی ماضی کے باسی قصوں، پرانے شجروں اور بارعب تصویروں کی نمائش سے نہیں، بلکہ ایک مضبوط معیشت سے قائم رہتی ہے۔ آخر قرضے اور قصے کہانیوں کے سہارے کب تک کسی حویلی کا بھرم قائم رکھا جا سکتا ہے؟