گھوٹکی (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری) اوباڑو میں پولیس اہلکار یعقوب سموں کے ساتھ مبینہ طور پر پیش آنے والے تشدد کے واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس واقعے کے بعد مختلف سماجی و عوامی حلقوں میں قانون کی صورتحال اور امن و امان کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقے میں بعض افراد کی جانب سے مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تلخ کلامی اور تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی۔ اسی دوران پولیس اہلکار یعقوب سموں پر مبینہ طور پر تشدد کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم واقعے میں نامزد یا مبینہ طور پر ملوث افراد کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا ہے۔
دوسری جانب متاثرہ پولیس اہلکار یا متعلقہ اعلیٰ حکام کی طرف سے بھی تاحال مکمل اور حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل چھان بین جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی شخص پر الزام اس وقت تک حتمی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں۔
شہریوں اور معزز سماجی حلقوں نے ڈی ایس پی اوباڑو اور ایس ایچ او اوباڑو سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے، اور اگر کسی بھی فرد کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی یا وردی کی توہین ثابت ہو تو بلا تفریق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔