چکوال کیس: بچی ہانیہ کی ہلاکت کی تفتیش پولیس سے واپس

چکوال (کیو این این ورلڈ) چکوال میں سی سی ڈی اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے 9 سالہ بچی ہانیہ کی ہلاکت کے مقدمے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش مقامی پولیس سے لے کر سی سی ڈی کے ہی سپرد کر دی گئی ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس کی تحقیقات کی سربراہی اب ریجنل ہیڈ سی سی ڈی، ایس ایس پی حسن جہانگیر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے ساتھ اب دفعہ 322 بھی شامل کر دی گئی ہے اور ملزم اہلکار کو دفعہ 302 کے تحت چالان کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جبکہ اس سے واردات میں استعمال ہونے والا سرکاری اسلحہ بھی ریکور کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب، فائرنگ کے اس واقعے میں زخمی ہونے والے بچی کے والد عدیل اور بھائی راولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق دونوں کا کامیاب آپریشن کر کے گولیاں نکال لی گئی ہیں اور اس وقت وہ آئی سی یو میں ہیں، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آسٹریلین ہائی کمیشن بھی متاثرہ خاندان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

ادھر سربراہ سی سی ڈی پنجاب سہیل ظفر نے مقتول بچی کے نانا کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ادارہ متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑا ہے اور انہیں اسپیڈی انصاف مہیا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک واقعے کی وجہ سے پورے ادارے پر سوال اٹھانا مناسب نہیں، تاہم آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایس او پیز کو مزید سخت اور ٹریننگ کو مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے ماورائے عدالت قتل کے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا۔ مقتولہ کے نانا نے بھی میڈیا سے گفتگو میں جاری انویسٹی گیشن پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے